ٹھٹھہ (کیو این این ورلڈ۔بیوروچیف) ٹھٹھہ اور مکلی میں کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر کیے گئے آر او فلٹر پلانٹس کے طویل عرصے سے بند پڑے ہونے، مبینہ نااہلی اور بدانتظامی کے خلاف صوبائی محتسب سندھ، ریجنل آفس ٹھٹھہ نے سخت نوٹس لے لیا ہے۔ عوامی پریس کلب ٹھٹھہ کے نائب صدر ممتاز علی سمیجو کی جانب سے دائر کی گئی درخواست پر کارروائی کرتے ہوئے ریجنل ڈائریکٹر ہارون احمد خان نے پبلک ہیلتھ انجینئرنگ ڈپارٹمنٹ ٹھٹھہ کو باقاعدہ نوٹس جاری کر دیا ہے۔
دائر کی گئی شکایت میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ مکلی سمیت ضلع ٹھٹھہ میں قائم تقریباً 62 آر او فلٹر پلانٹس میں سے اکثریت مکمل طور پر غیر فعال ہو چکی ہے، جس کے باعث شہری صاف پینے کے پانی جیسے بنیادی انسانی حق سے محروم ہیں۔ درخواست میں خاص طور پر بھٹی مسجد کے قریب ناریجا گاؤں، درگاہ حضرت شاہ ابراہیم شاہ جیلانی، درگاہ مخدوم آدم نقشبندی اور گاؤں رسول بخش بروہی میں واقع پلانٹس کی نشاندہی کی گئی ہے، جو گزشتہ کئی مہینوں اور برسوں سے مرمت اور دیکھ بھال نہ ہونے کے باعث بند پڑے ہیں۔
صوبائی محتسب سندھ کی جانب سے جاری کیے گئے نوٹس میں متعلقہ محکمے کو سخت ہدایت کی گئی ہے کہ وہ 23 فروری 2026 تک ان پلانٹس کی بندش کی وجوہات اور موجودہ صورتحال پر اپنی تفصیلی رپورٹ پیش کرے۔ نوٹس میں متنبہ کیا گیا ہے کہ اگر مقررہ تاریخ تک تسلی بخش جواب موصول نہ ہوا تو محتسب ایکٹ 1991 کے تحت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ واضح رہے کہ احکامات کی خلاف ورزی کی صورت میں ریجنل ڈائریکٹر کو ہائی کورٹ کے مساوی اختیارات حاصل ہیں، جس کے تحت توہینِ عدالت کی کارروائی بھی کی جا سکتی ہے۔
ٹھٹھہ کے شہریوں اور سماجی حلقوں نے صوبائی محتسب کے اس بروقت اقدام کا خیرمقدم کیا ہے۔ عوامی حلقوں کا کہنا ہے کہ صاف پانی کی عدم دستیابی کی وجہ سے علاقے میں بیماریاں پھیل رہی ہیں، جبکہ سرکاری فنڈز سے لگائے گئے پلانٹس محض انتظامی غفلت کی وجہ سے سفید ہاتھی بن چکے ہیں۔ شہریوں نے امید ظاہر کی ہے کہ اس قانونی چارہ جوئی کے نتیجے میں بند پڑے پلانٹس جلد فعال ہوں گے اور سرکاری وسائل کا زیاں کرنے والے ذمہ دار افسران کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔