بیجنگ (کیو این این ورلڈ) چین کے جدید ترین اور پراسرار ہتھیاروں میں شمار ہونے والے فضا سے فضا میں مار کرنے والے میزائل PL-17 کی پہلی واضح تصویر منظرِ عام پر آ گئی ہے، جس نے عالمی دفاعی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ PL-17 دنیا میں سب سے زیادہ رینج رکھنے والا ائیر ٹو ائیر میزائل ہو سکتا ہے، جو مغربی بحرالکاہل میں امریکی فضائی برتری کے لیے ایک بڑا خطرہ بن کر ابھرا ہے۔ چینی سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی اس تصویر میں میزائل یا اس کے ماڈل کو ایک اسٹینڈ پر رکھا دکھایا گیا ہے، جس کے سائز سے اس کی تباہ کن صلاحیتوں کا اندازہ لگایا جا رہا ہے۔

چینی میڈیا اور دفاعی ماہرین کے مطابق PL سیریز کے میزائل پیپلز لبریشن آرمی کی فضائی طاقت کا مرکز ہیں، جن میں کم فاصلے کے لیے PL-10 سے لے کر طویل فاصلے کے حامل PL-15 تک شامل ہیں۔ تاہم PL-17 گزشتہ ایک دہائی سے تیاری کے مراحل میں ہونے کے باوجود انتہائی خفیہ رکھا گیا تھا اور اسے نہ ہی کسی فوجی پریڈ میں دکھایا گیا اور نہ ہی سرکاری سطح پر اس کی معلومات جاری کی گئیں۔ امریکی فوجی تجزیاتی ویب سائٹس کے مطابق اس ریڈار گائیڈڈ میزائل کی لمبائی 20 فٹ سے زائد ہے اور اس کی مار کرنے کی صلاحیت 400 کلومیٹر (250 میل) سے بھی زیادہ ہو سکتی ہے، جو امریکی فوج کے سب سے طاقتور میزائل AIM-120D کی 160 کلومیٹر رینج کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہے۔

پینٹاگون کی جانب سے امریکی کانگریس کو پیش کی گئی حالیہ رپورٹ میں بھی اس میزائل کی اہمیت کو تسلیم کیا گیا ہے، جس کے مطابق PL-17 سے لیس J-16 لڑاکا طیارے کی حملہ کرنے کی مجموعی صلاحیت 1400 کلومیٹر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس میزائل میں جدید ترین ‘ایسا’ (AESA) ریڈار سسٹم استعمال کیا گیا ہے جو ہدف کو انتہائی درستی کے ساتھ نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ اب تک J-16 چین کا وہ واحد طاقتور ترین ہیوی ملٹی رول فائٹر جیٹ ہے جس پر اس میزائل کو نصب دیکھا گیا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین مستقبل کی فضائی جنگوں میں دور سے ہی دشمن کے طیاروں اور جاسوس طیاروں کو نشانہ بنانے کی بھرپور تیاری کر چکا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے