احمدپورشرقیہ (کیو این این ورلڈ)معروف صحافی، مصنف، کالم نگار، سرائیکی شاعر اور دانشور شکیل احمد المعروف رازش لیاقت پوری انتقال کر گئے۔ وہ گردوں کے عارضے میں مبتلا تھے اور گزشتہ کچھ عرصے سے زیرِ علاج تھے۔ ان کے انتقال سے سرائیکی وسیب علمی، ادبی اور صحافتی میدان میں ایک توانا اور بے باک آواز سے محروم ہو گیا ہے۔

رازش لیاقت پوری سرائیکی یونین آف جرنلسٹس کے بانی، سرائیکی سٹوڈنٹس فیڈریشن (2011ء) کے بانی صدر اور بے روزگار سرائیکی طلبہ کے لیے عملی اور مثالی کردار کے طور پر جانے جاتے تھے۔ وہ روزنامہ خبریں (ملتان/لاہور)، روزنامہ اوصاف ملتان اور روزنامہ پاکستان ملتان سے وابستہ رہے، جب کہ میڈا عشق سرائیکستان وو جیسے نظریاتی پلیٹ فارمز پر بھی انہوں نے سرائیکی وسیب کی مؤثر ترجمانی کی۔
مرحوم وسیب رنگ کے سرائیکی ادبی صفحات کے آڈیٹر بھی رہے۔

رازش لیاقت پوری اپنی قوم، تہذیب و تمدن، ثقافت اور تاریخ سے گہری وابستگی رکھنے والے تھے۔ وہ پاکستانی زبانوں کے خوبصورت اور مضبوط شاعر سمجھے جاتے تھے۔ بطور ادیب، دانشور، شاعر اور نوجوان نامور صحافی انہوں نے سات کتابیں تصنیف کیں جو سرائیکی ادب، شعور اور مزاحمتی فکر کا قیمتی سرمایہ ہیں۔

معروف دانشور ڈاکٹر پروفیسر محمد الطاف ڈاہر جلالوی نے مرحوم کی وفات پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے کہا:

“سئیں رازش لیاقت پوری دی وفات دا دکھ ساڈے کیتے ہک نا ختم تھیون والا روگ اے۔ اس سانحہ ارتحال پر گہرے دکھ اور رنج کا اظہار کرتے ہوئے کہنا ہے کہ رازش لیاقت پوری کی وفات، سرائیکی وسیب کو ایک توانا آواز سے محروم کر گئی ہے اور ان کی وفات سرائیکی وسیب کیلئے ناقابلِ تلافی نقصان ہے۔”

سابق وفاقی وزیر مخدوم احمد عالم انور نے کہا کہ رازش لیاقت پوری کے انتقال سے وسیب ایک بڑا سانحہ سہہ گیا ہے اور مرحوم کی میت رحیم یارخان سے ان کے آبائی گاؤں منتقل کی جا رہی ہے۔
مسلم لیگ (ن) کے رکن صوبائی اسمبلی چوہدری محمود احمد نے کہا کہ رازش لیاقت پوری کی صحافتی، ادبی اور تنظیمی خدمات ناقابلِ فراموش ہیں اور ان کی کمی طویل عرصے تک محسوس کی جاتی رہے گی۔

مرحوم کی نمازِ جنازہ اور تدفین کے شیڈول کا اعلان بعد میں کیا جائے گا۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جوارِ رحمت میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور پسماندگان کو صبرِ جمیل دے۔

انا للہ وانا الیہ راجعون۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے