ماسکو/کیف (کیو این این ورلڈ)روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا ہے کہ جنوری 2026 کے دوران یوکرین میں جاری خصوصی فوجی آپریشن کے دوران روسی افواج نے 24 آبادیوں کا کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ دعویٰ روسی سرکاری خبر رساں ایجنسی TASS کی جانب سے وزارت دفاع کی روزانہ رپورٹس کی بنیاد پر سامنے آیا ہے۔
روسی وزارت دفاع کے مطابق سب سے زیادہ پیش رفت زاپوروزیے ریجن میں ہوئی، جہاں مشرقی اور دنیپر بیٹل گروپس نے 10 آبادیوں پر قبضہ حاصل کیا۔ ان آبادیوں میں ترنوفاتویے، نوویاکوولیوکا، ریچنویے، پریلوکی، پاولووکا، ژووتنیویے، بیلوگوریے، نووبوئکووسکویے، زیلینیے اور پیٹرووکا شامل ہیں۔ وزارت دفاع کا کہنا ہے کہ یہ پیش رفت یوکرینی دفاعی لائنوں کو توڑنے اور علاقائی کنٹرول مضبوط بنانے کے نتیجے میں ممکن ہوئی۔
ڈونیٹسک عوامی جمہوریہ میں مغربی اور مرکزی بیٹل گروپس نے چھ آبادیوں پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کیا ہے، جن میں بیریسٹوک اور سوکھیتسکویے شامل ہیں۔ خارکیف ریجن میں روسی افواج نے چار آبادیوں، جن میں ستاریتسا اور زیلینیے شامل ہیں، پر قبضے کا دعویٰ کیا، جبکہ سومی ریجن میں تین سرحدی آبادیاں روسی کنٹرول میں آنے کی اطلاع دی گئی۔ دنیپروپیٹرووسک ریجن میں ایک آبادی پر قبضے کا بھی دعویٰ سامنے آیا ہے۔
روسی چیف آف جنرل اسٹاف ویلری گیرایسیموف کے مطابق جنوری کے ابتدائی دو ہفتوں میں روسی افواج نے 300 مربع کلومیٹر سے زائد علاقے پر کنٹرول حاصل کیا، جبکہ 27 جنوری کو انہوں نے دعویٰ کیا کہ ماہ کے آغاز سے اب تک 17 آبادیوں اور 500 مربع کلومیٹر سے زائد علاقے پر قبضہ کیا جا چکا ہے۔ ان کے مطابق زاپوروزیے شہر کے جنوب اور جنوب مشرق میں 12 سے 14 کلومیٹر تک پیش رفت ہوئی، جبکہ خارکیف، سومی اور دنیپروپیٹرووسک ریجنز میں بفر زونز کو وسعت دی جا رہی ہے۔
روسی وزارت دفاع نے دعویٰ کیا کہ جنوری کے دوران یوکرینی فوج کو ہلاک اور زخمی ملا کر 38 ہزار سے زائد اہلکاروں کا نقصان اٹھانا پڑا۔ وزارت کے مطابق اس عرصے میں 303 لڑائیاں ہوئیں، جن میں 38 فضائی حملے، 119 گائیڈڈ بم، 2 ہزار 510 کامکازی ڈرون حملے اور 2 ہزار 437 توپ خانے کی شیلنگ شامل ہے۔
دوسری جانب انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار دی اسٹڈی آف وار (ISW) اور دیگر آزاد تجزیہ کاروں نے روسی دعوؤں کو مبالغہ آمیز قرار دیا ہے۔ ISW کی 27 جنوری کی رپورٹ کے مطابق روسی افواج کی پیش رفت 500 کے بجائے تقریباً 265 مربع کلومیٹر تک محدود رہی۔ ادارے کا کہنا ہے کہ روسی وزارت دفاع گزشتہ کئی ماہ سے پیش رفت کے اعداد و شمار میں مبالغہ کر رہی ہے۔
ISW کے مطابق روسی پیش قدمی زیادہ تر چھوٹی آبادیوں تک محدود رہی، جن میں سیمی نووکا، ستاریتسا، کوپیانسک-وزلووی اور دیگر دیہات شامل ہیں، جن کا رقبہ چند مربع کلومیٹر سے زیادہ نہیں۔ بعض روسی ملٹری بلاگرز نے بھی چیف آف جنرل اسٹاف کے بیانات کو مبالغہ آمیز قرار دیتے ہوئے کوپیانسک سمت میں پیش رفت کے دعوؤں پر تنقید کی ہے۔
یوکرینی جنرل اسٹاف نے روسی دعوؤں کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ روسی حملوں کو متعدد محاذوں پر روکا جا رہا ہے۔ یوکرینی حکام کے مطابق کوستانتینیوکا-دروژکیوکا کے علاقے میں یوکرینی افواج نے پیش رفت کی ہے، جبکہ سلیویانسک سمت میں روسی فورسز کی محدود پیش قدمی کی اطلاعات ہیں۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق روسی دعوؤں کی آزادانہ تصدیق ممکن نہیں ہو سکی، جبکہ یوکرین کا کہنا ہے کہ لڑائی بدستور جاری ہے۔ کریٹیکل تھریٹس پروجیکٹ اور رشیا میٹرز کی رپورٹس میں بھی روسی پیش رفت کو سست قرار دیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ دسمبر 2025 سے جنوری 2026 تک روس نے محدود علاقہ حاصل کیا ہے۔
واضح رہے کہ 2022 میں جنگ کے آغاز کے بعد سے اب تک روس یوکرین کے تقریباً 12 فیصد علاقے پر کنٹرول حاصل کرنے کا دعویٰ کرتا ہے، تاہم میدان جنگ کی صورتحال مسلسل تبدیل ہو رہی ہے اور حتمی تصویر کے لیے مزید آزاد شواہد درکار ہیں۔