شبِ برات اور ہماری ذمہ داری
تحریر: ڈاکٹر عبدالوحید رند
ہر سال شعبان المعظم کی پندرہویں رات جوں جوں قریب آتی ہے، ہمارے معاشرے میں ایک خاص سی ہلچل محسوس ہونے لگتی ہے۔ مساجد میں چراغاں، گھروں میں عبادات اور دعاؤں کی محفلیں یقیناً روح کو تازگی بخشتی ہیں، مگر افسوس کہ اس مقدس رات کے ساتھ کچھ ایسی غیر ضروری رسومات بھی جڑ گئی ہیں جن کا نہ دین سے کوئی تعلق ہے اور نہ ہی اخلاقی اقدار سے۔
شبِ برات دراصل توبہ، استغفار اور اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کی رات ہے۔ یہ لمحے انسان کو اپنے اعمال کا محاسبہ کرنے، گناہوں پر ندامت محسوس کرنے اور آئندہ زندگی کو بہتر بنانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ مگر بدقسمتی سے ہم نے اس بابرکت رات کو سنجیدگی کے بجائے شور شرابے اور غیر سنجیدہ سرگرمیوں کی نذر کر دیا ہے۔
آج صورتِ حال یہ ہے کہ شہروں اور محلوں کی گلیوں میں پٹاخوں اور کریکرز کی گونج سنائی دیتی ہے، جیسے یہ عبادت کی رات نہیں بلکہ کوئی تہوار یا میلہ ہو۔ آتش بازی کا یہ سلسلہ نہ صرف ماحول کو آلودہ کرتا ہے بلکہ بیمار افراد، بزرگوں اور چھوٹے بچوں کے لیے شدید ذہنی اذیت کا باعث بھی بنتا ہے۔ مریض جو سکون اور آرام کے محتاج ہوتے ہیں، اس شور کے باعث بے چین رہتے ہیں۔ دل کے مریضوں اور نومولود بچوں کے لیے یہ کیفیت کسی آزمائش سے کم نہیں ہوتی۔
اس مسئلے کا ایک اور افسوسناک پہلو اس کا مالی بوجھ ہے۔ لوگ اپنی محنت کی کمائی آتش بازی جیسے فضول کاموں پر لٹا دیتے ہیں، حالانکہ اگر یہی رقم کسی غریب کی مدد، یتیموں کی کفالت یا کسی فلاحی کام پر خرچ کی جائے تو اس مقدس رات کی حقیقی روح زندہ ہو سکتی ہے۔ دینِ اسلام ہمیں فضول خرچی اور اسراف سے روکتا ہے، مگر ہم رسموں کے نام پر اسی اسراف کو فروغ دے رہے ہیں۔
یہ رویہ اس بات کی واضح علامت ہے کہ ہم آہستہ آہستہ دین کی اصل روح سے دور ہوتے جا رہے ہیں۔ عبادات کو محض رسم بنا دیا گیا ہے اور مقصدِ حقیقی پسِ پشت چلا گیا ہے، حالانکہ شبِ برات کا تقاضا عاجزی، خاموشی، سنجیدگی اور خود احتسابی ہے، نہ کہ شور و ہنگامہ آرائی۔
اس صورتحال میں آج سب سے زیادہ ضرورت اس امر کی ہے کہ علماء، والدین اور اساتذہ اپنی ذمہ داری محسوس کریں اور نوجوان نسل کی درست رہنمائی کریں۔ انہیں بتایا جائے کہ اس رات کا حقیقی مقصد عبادت، اصلاحِ نفس اور اللہ سے تعلق مضبوط کرنا ہے۔ گھروں اور مساجد میں ذکر و اذکار، تلاوتِ قرآن، درود و سلام اور اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کیا جائے تاکہ معاشرے میں ایک مثبت اور روحانی فضا پروان چڑھ سکے۔
ساتھ ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور سماجی تنظیموں پر بھی لازم ہے کہ وہ آتش بازی اور کریکرز کے بے جا استعمال کی حوصلہ شکنی کریں۔ اس حوالے سے منظم آگاہی مہم چلائی جائے تاکہ عوام اس کے نقصانات سے پوری طرح واقف ہو سکیں۔ میڈیا، تعلیمی ادارے اور مذہبی حلقے اگر مل کر کردار ادا کریں تو اس بگاڑ کو روکا جا سکتا ہے۔
شبِ برات جیسی مقدس راتیں ہمیں بہتر انسان بننے کا سنہری موقع فراہم کرتی ہیں۔ اگر ہم ان لمحات کو شور شرابے کے بجائے عبادت، خدمتِ خلق اور خود احتسابی میں گزاریں تو نہ صرف ہمارا معاشرہ سنور سکتا ہے بلکہ آنے والی نسلیں بھی مثبت اقدار سیکھ سکتی ہیں۔
آئیے اس سال عہد کریں کہ شبِ برات کو حقیقی معنوں میں رحمت، سکون اور عبادت کی رات بنائیں گے,ایسی رات جو ہمارے دلوں کو روشن کرے، ہمارے کردار کو سنوارے اور ہمارے معاشرے کو امن و وقار عطا کرے، نہ کہ ایسی رات جو شور اور آلودگی کا سبب بنے۔
