لندن(کیو این این ورلڈ) برطانوی اخبار دی ٹیلی گراف کے مطابق بھارتی حکومت کی سفارتی کمزوری اور معاشی پالیسیوں کی ناکامی مودی کے دعووں کے برعکس بھارت کو شدید مسائل میں دھکیل رہی ہے۔ اخبار کے مطابق مودی کے بدترین دور اقتدار میں بھارت کو سفارتی اور معاشی دونوں محاذوں پر شدید دھچکے لگے ہیں، جبکہ بھارتی ادارہ جاتی حصص کی فروخت اور امریکی پابندیوں نے مودی حکومت کو امریکہ کے سامنے جھکنے پر مجبور کر دیا ہے۔

دی ٹیلی گراف کے مطابق بھارت پر بھاری ٹیرف، امریکی امیگریشن قوانین میں سختی اور چاہ بہار منصوبے سے دستبرداری مودی کی ناکام خارجہ پالیسی کا واضح ثبوت ہیں۔ مزید برآں، روس-یوکرین جنگ میں پھنسے بھارتی شہریوں کی مدد میں مودی کی بے بسی، ایران کی جانب سے بھارتی بحری عملے تک رسائی سے انکار اور چین کے ساتھ 116.12 ارب ڈالر تک پہنچنے والا تجارتی خسارہ بھی مودی حکومت کی ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔

ماہرین کے مطابق مودی کا خطے میں تسلط کا بیانیہ محض دعووں تک محدود ہے، اور بین الاقوامی دباؤ کے سامنے بار بار جھکنا بھارت کی سفارتی کمزوری اور عوامی اعتماد میں کمی کو ظاہر کرتا ہے۔

تفصیلات کے مطابق، امریکہ نے بھارت پر 50 فیصد ٹیرف عائد کیے، جن میں 25 فیصد ریسیپروکل ٹیرف اور روسی تیل کی خریداری پر 25 فیصد سزا شامل ہے۔ یہ ٹیرف اپریل 2025 سے نافذ ہوئے اور اگست 2025 میں مزید سخت کر دیے گئے، جس سے بھارتی برآمدات میں مئی سے نومبر 2025 تک تقریباً 21 فیصد کمی واقع ہوئی۔ اکنامک سروے 2026 کے مطابق یہ ٹیرف بھارتی برآمد کنندگان کو 50 فیصد تک متاثر کر رہے ہیں اور معیشت کو عالمی تجارتی غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے۔

چاہ بہار منصوبے کی بات کریں تو بھارت نے امریکہ کی پابندیوں کے سبب اس منصوبے سے دستبرداری اختیار کر لی۔ ستمبر 2025 میں امریکہ نے پابندیاں بحال کیں، اور بھارت کو اکتوبر 2025 میں چھ ماہ کی چھوٹ دی گئی جو اپریل 2026 تک ہے، تاکہ منصوبے سے منظم طریقے سے نکل سکے۔ بھارت نے 120 ملین ڈالر کی سرمایہ کاری مکمل کی، مگر اب ڈائریکٹرز استعفیٰ دے رہے ہیں اور آپریشنز کم ہو رہے ہیں۔ اس دستبرداری سے بھارت کی علاقائی کنیکٹیویٹی کی حکمت عملی، جو گوادر پورٹ کے مقابلے میں تیار کی گئی تھی، شدید دھچکے کا شکار ہوئی ہے۔

امریکی امیگریشن قوانین میں سختی کے باعث بھارتی شہری بھی متاثر ہوئے ہیں۔ H-1B ویزہ کی فیس 100,000 ڈالر تک بڑھا دی گئی، جو نئی درخواستوں پر لاگو ہے۔ یہ فیس بھارتی ٹیک ورکرز کے لیے مشکلات پیدا کر رہی ہے، جو H-1B ویزوں کا 75 فیصد استعمال کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، غیر قانونی بھارتی تارکین وطن کی ڈیپورٹیشن شروع ہو گئی ہے، جن کی تعداد 725,000 تک پہنچ گئی۔ جنوری 2025 سے جولائی 2025 تک 1,703 بھارتیوں کو ڈیپورٹ کیا گیا، جن میں کئی کو زنجیروں میں واپس بھیجا گیا۔ مودی نے اس مسئلے کو امریکی صدر ٹرمپ سے اٹھایا، مگر کوئی مؤثر حل نہیں نکلا۔

روس-یوکرین جنگ میں پھنسے بھارتی شہری بھی مودی کی بے بسی کی مثال ہیں۔ تقریباً 30-40 بھارتی روسی فوج میں بھرتی ہو کر پھنس گئے، جن میں سے چار ہلاک ہو چکے ہیں۔ مودی نے پوتن سے 10 شہری واپس لانے میں کامیابی حاصل کی، مگر باقی کی رہائی کے لیے کوششیں جاری ہیں، جبکہ خاندان احتجاج کر رہے ہیں۔

ایران کی جانب سے بھارتی بحری عملے تک رسائی سے انکار بھی ایک بڑا سفارتی دھچکا ہے۔ دسمبر 2025 میں ایران نے MT Valiant Roar نامی تیل ٹینکر کو قبضے میں لیا، جس پر 16 بھارتی عملہ تھا۔ ایران نے رسائی کی درخواست کو رد کر دیا، اور جنوری 2026 میں محدود رسائی ممکن ہوئی، مگر عملہ ناکافی خوراک اور محدود جگہ پر رکھا گیا۔

چین کے ساتھ تجارتی خسارہ 116.12 ارب ڈالر تک پہنچ گیا، جو 2025 میں ریکارڈ سطح ہے۔ بھارتی برآمدات چین کو 19.75 ارب ڈالر، جبکہ درآمدات 135.87 ارب ڈالر رہیں۔ یہ خسارہ 2024 کے 99.21 ارب ڈالر سے بڑھا، جو مودی کی "میک ان انڈیا” اور علاقائی تسلط کی پالیسی کی ناکامی ہے۔

عالمی ماہرین مودی کی خارجہ پالیسی پر شدید تنقید کر رہے ہیں۔ بروکنگز انسٹی ٹیوٹ کے مطابق، یہ پالیسی "چمکدار مگر کمزور” ہے۔ فارن افیئرز نے لکھا کہ ہندو بالادستی کی پالیسی بھارت کو عالمی قیادت سے دور کر رہی ہے۔ چیتھم ہاؤس کے مطابق، مودی کی مداخلتی پالیسی ہمسایہ ممالک میں انڈیا مخالف جذبات کو بڑھا رہی ہے۔ آکسفورڈ کی تحقیق کے مطابق، پاپولسٹ پالیسی نے روایتی سفارتکاری کو کمزور کیا ہے۔

یہ تمام عوامل مودی کی خارجہ پالیسی کی ناکامی اور علاقائی تنہائی کو واضح کرتے ہیں، جو دعووں اور زمینی حقائق کے درمیان خلیج کو بڑھا رہے ہیں اور بھارت کو سفارتی و معاشی چیلنجز میں دھکیل رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے