الیکٹرک سگریٹ، جدید فیشن یا صحت کے خلاف خاموش سازش؟
تحریر: ملک ظفر اقبال بھوہڑ۔
آج کا ہمارا نوجوان الیکٹرک سگریٹ کو اپنا فیشن سمجھ کر خوب الیکٹرک سگریٹ نوشی کر رہا ہے۔ مگر جدیدیت کا تقاضا کچھ اور ہے۔ جس میں اچھی تربیت، کتاب بینی، کھیل کود اور ترقی پسند سوچ کا شغل ضروری ہے مگر اس دور میں جہاں سائنسی ترقی نے انسان کو بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں، وہیں کچھ ایسی ایجادات بھی سامنے آئی ہیں جو سہولت اور فیشن کے پردے میں انسانی صحت کے لیے سنگین خطرات بن چکی ہیں۔ الیکٹرک سگریٹ، جسے عام طور پر ویپ (Vape) کہا جاتا ہے، انہی خطرناک رجحانات میں شامل ہے۔ بدقسمتی سے ہمارے معاشرے میں اسے ایک محفوظ متبادل، جدید طرزِ زندگی اور سگریٹ چھوڑنے کا آسان طریقہ سمجھا جا رہا ہے، حالانکہ حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔

الیکٹرک سگریٹ دراصل ایک بیٹری سے چلنے والا آلہ ہے، جس میں ایک مخصوص مائع (E-liquid) استعمال کیا جاتا ہے۔ یہ مائع گرم ہو کر بھاپ میں تبدیل ہوتا ہے، جسے صارف سانس کے ذریعے اپنے پھیپھڑوں میں داخل کرتا ہے۔ اس مائع میں عموماً نکوٹین، مختلف خوشبو دار فلیورز اور کیمیائی مادے شامل ہوتے ہیں۔ بظاہر اس میں دھواں نہیں ہوتا، اسی لیے اسے عام سگریٹ کے مقابلے میں کم نقصان دہ قرار دیا جاتا ہے، مگر سائنسی تحقیق اس دعوے کو مسلسل غلط ثابت کر رہی ہے۔ الیکٹرک سگریٹ کا سب سے بڑا اور خطرناک عنصر نکوٹین ہے۔ نکوٹین ایک انتہائی نشہ آور مادہ ہے جو نہ صرف جسم کو بلکہ دماغ کو بھی اپنی گرفت میں لے لیتا ہے۔ ماہرین کے مطابق کئی الیکٹرک سگریٹس میں نکوٹین کی مقدار عام سگریٹ سے بھی زیادہ ہوتی ہے، جس کے باعث انسان بہت جلد اس کا عادی ہو جاتا ہے۔ نوجوان نسل، جو پہلے ہی ذہنی دباؤ اور بے یقینی کا شکار ہے، اس لت میں تیزی سے پھنس رہی ہے۔ نکوٹین وقتی طور پر سکون کا احساس دیتی ہے، مگر درحقیقت یہ ذہنی بے چینی، چڑچڑاپن اور ڈپریشن کو جنم دیتی ہے۔

پھیپھڑوں پر الیکٹرک سگریٹ کے اثرات نہایت تشویشناک ہیں۔ اگرچہ اس سے دھواں نہیں نکلتا، مگر اس کی بھاپ میں شامل باریک زہریلے ذرات پھیپھڑوں کے اندر گہرائی تک پہنچ جاتے ہیں۔ دنیا کے مختلف ممالک میں Vape کے استعمال سے پھیپھڑوں کی شدید سوزش، سانس کی تنگی اور حتیٰ کہ پھیپھڑوں کے مکمل فیل ہونے کے کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ یہ ایک ایسی بیماری ہے جو بظاہر آہستہ آہستہ بڑھتی ہے، مگر ایک وقت میں جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے۔ نکوٹین کا ایک اور خطرناک اثر دل اور خون کی نالیوں پر پڑتا ہے۔ یہ دل کی دھڑکن کو غیر معمولی طور پر تیز کرتی ہے اور بلڈ پریشر میں اضافہ کرتی ہے۔ نتیجتاً دل کے دورے اور فالج جیسے مہلک امراض کا خطرہ کئی گنا بڑھ جاتا ہے۔ افسوسناک پہلو یہ ہے کہ نوجوان، جو خود کو مکمل طور پر صحت مند سمجھتے ہیں، وہی کم عمری میں دل کے مریض بنتے جا رہے ہیں۔

الیکٹرک سگریٹ کے فلیورز بھی کم نقصان دہ نہیں۔ مختلف ذائقوں جیسے اسٹرابری، آم، چاکلیٹ اور منٹ کے نام پر جو کیمیکل استعمال کیے جاتے ہیں، وہ جب زیادہ درجہ حرارت پر گرم ہوتے ہیں تو خطرناک مادوں میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔ ان میں فارملڈیہائیڈ جیسے عناصر شامل ہیں، جو کینسر کا سبب بن سکتے ہیں۔ اگرچہ اس حوالے سے مزید تحقیق جاری ہے، مگر ابتدائی رپورٹس انسانی صحت کے لیے واضح خطرے کی نشاندہی کر رہی ہیں۔ نوجوانوں میں الیکٹرک سگریٹ کا بڑھتا ہوا استعمال ایک سماجی المیہ بنتا جا رہا ہے۔ 25 سال سے کم عمر افراد کا دماغ ابھی نشوونما کے مراحل میں ہوتا ہے۔ نکوٹین دماغی صلاحیتوں کو متاثر کرتی ہے، یادداشت کمزور ہوتی ہے اور فیصلہ کرنے کی قوت متاثر ہو جاتی ہے۔ تعلیمی کارکردگی میں کمی، عدم توجہی اور ذہنی الجھن جیسے مسائل عام ہو رہے ہیں، جن کا خمیازہ پوری قوم کو بھگتنا پڑ سکتا ہے۔

الیکٹرک سگریٹ منہ اور دانتوں کے لیے بھی نقصان دہ ہے۔ مسلسل استعمال سے منہ خشک رہتا ہے، دانت کمزور ہو جاتے ہیں، مسوڑھوں کی بیماریاں جنم لیتی ہیں اور سانس کی بدبو ایک مستقل مسئلہ بن جاتی ہے۔ اس کے علاوہ جلد کی رنگت متاثر ہونا اور قبل از وقت بڑھاپا بھی اس کے منفی اثرات میں شامل ہیں۔ ایک اور خطرناک پہلو جسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے، وہ الیکٹرک سگریٹ کے پھٹنے کے واقعات ہیں۔ غیر معیاری اور سستے Vape آلات کے اچانک دھماکوں سے ہاتھ، چہرہ اور جسم کے دیگر حصے بری طرح جھلسنے کے واقعات رپورٹ ہو چکے ہیں۔ یہ آلہ محض صحت ہی نہیں بلکہ براہِ راست جان کے لیے بھی خطرہ بن سکتا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت (WHO) الیکٹرک سگریٹ کو واضح طور پر نقصان دہ قرار دے چکا ہے اور خاص طور پر نوجوانوں اور غیر سگریٹ نوش افراد کو اس سے دور رہنے کی سخت ہدایت دیتا ہے۔ کئی ترقی یافتہ ممالک میں اس کی فروخت اور تشہیر پر سخت پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں، مگر ہمارے ہاں اس حوالے سے نہ قانون سازی مؤثر ہے اور نہ ہی آگاہی کا کوئی مربوط نظام موجود ہے۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہو گا کہ الیکٹرک سگریٹ ایک جدید فریب ہے، جو صحت کے نام پر نوجوان نسل کو ایک نئی تباہی کی طرف دھکیل رہا ہے۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت، والدین، تعلیمی ادارے اور میڈیا مل کر اس خطرے کے خلاف مؤثر آواز بلند کریں۔ صحت کوئی فیشن نہیں اور زندگی کسی تجربے کا میدان نہیں۔ اگر آج ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے تو کل اس کی قیمت پوری قوم کو چکانا پڑے گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے