کنشاسا (کیو این این ورلڈ):وسطی افریقی ملک جمہوریہ کانگو میں ایک المناک حادثے کے نتیجے میں قیمتی معدنیات کالٹن کی کان بیٹھ گئی، جس کے باعث 200 سے زائد افراد کی ہلاکت کی اطلاعات سامنے آئی ہیں، تاہم ہلاک افراد کی حتمی تعداد کا تعین تاحال نہیں ہو سکا۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق یہ واقعہ مشرقی کانگو کے علاقے ربایا میں بدھ کے روز پیش آیا، جو ایک باغی گروپ کے زیر اثر صوبے میں واقع ہے۔ حادثے کے بعد جمعے تک امدادی کارروائیاں جاری رہیں، مگر ملبے تلے دبے افراد کی وجہ سے درست اعداد و شمار سامنے نہ آ سکے۔

میڈیا کے مطابق شدید لینڈ سلائیڈنگ کے باعث کان اچانک بیٹھ گئی، جس کے نتیجے میں کان کے اندر موجود مزدور دب گئے۔ جاں بحق افراد میں خواتین اور بچے بھی شامل ہیں، جبکہ حادثے میں کم از کم 20 افراد شدید زخمی ہوئے جنہیں قریبی طبی مراکز منتقل کر دیا گیا ہے، جہاں بعض زخمیوں کی حالت تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔

متاثرہ علاقے ربایا کے مقامی حکام کا کہنا ہے کہ بارشوں کے موسم کے باعث زمین غیر معمولی حد تک نرم ہو چکی تھی، جس کی وجہ سے کان کی دیواریں دباؤ برداشت نہ کر سکیں اور اچانک منہدم ہو گئیں۔ حکام کے مطابق کان میں حفاظتی انتظامات بھی ناکافی تھے، جس سے جانی نقصان میں اضافہ ہوا۔

واضح رہے کہ ربایا کا علاقہ دنیا کی مجموعی کالٹن پیداوار کا تقریباً 15 فیصد فراہم کرتا ہے۔ کالٹن سے ٹینٹالم دھات حاصل کی جاتی ہے، جو موبائل فونز، کمپیوٹرز، ایرو اسپیس ٹیکنالوجی اور ٹربائنز سمیت جدید الیکٹرانکس کی تیاری میں بڑے پیمانے پر استعمال ہوتی ہے۔ کانگو میں غیر محفوظ کان کنی، غربت اور باغی گروپوں کے اثر و رسوخ کے باعث اس نوعیت کے حادثات ماضی میں بھی پیش آتے رہے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے