میہڑ (کیو این این ورلڈ/رپورٹ: منظور علی جوئیہ):سندھ کے ضلع دادو کی تحصیل میہڑ میں گلے کی خطرناک بیماری ڈفتھیریا تیزی سے پھیلتی جا رہی ہے، جبکہ محکمۂ صحت کی مبینہ غفلت اور ناقص انتظامات کے باعث صورتحال بے قابو ہو چکی ہے۔ شہر اور گرد و نواح میں اب تک 8 معصوم بچے جان کی بازی ہار چکے ہیں، جس کے بعد علاقے میں خوف و ہراس اور شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

تازہ واقعہ میہڑ کے بھنڈ محلہ سے تعلق رکھنے والے پیپلز پارٹی کے کارکن عاشق علی جسکانی کے 12 سالہ بیٹے آصف علی جسکانی کا ہے، جو ڈفتھیریا میں مبتلا تھا اور کراچی منتقل کیے جانے کے دوران راستے میں دم توڑ گیا۔ مرحوم بچے کے والد عاشق علی جسکانی کے مطابق چند روز قبل آصف علی کو گلے کی شدید تکلیف اور بخار ہوا، جس پر اسے دادو کے ڈی ایچ کیو اسپتال میں داخل کرایا گیا جہاں کئی دن علاج کے باوجود حالت میں بہتری نہ آ سکی۔ بعد ازاں بچے کو لاڑکانہ ریفر کیا گیا، تاہم وہاں بھی مناسب سہولیات اور بروقت علاج فراہم نہیں کیا گیا اور ڈاکٹروں نے کراچی منتقل کرنے کا مشورہ دیا، مگر افسوس کہ کراچی لے جاتے ہوئے راستے میں ہی آصف علی جانبر نہ ہو سکا۔

شہریوں اور لواحقین کا کہنا ہے کہ میہڑ اور اطراف کے علاقوں میں ڈفتھیریا کے متعدد کیسز سامنے آ چکے ہیں، لیکن محکمۂ صحت نہ تو مؤثر نگرانی کر رہا ہے اور نہ ہی بروقت ویکسینیشن اور ادویات کی دستیابی کو یقینی بنایا جا رہا ہے۔ عوام کا الزام ہے کہ سرکاری اسپتالوں میں ڈفتھیریا انٹی ٹاکسن اور ماہر ڈاکٹرز کی کمی ہے، جس کے باعث بچوں کی زندگیاں خطرے میں پڑ گئی ہیں۔

ڈفتھیریا ایک خطرناک بیکٹیریائی بیماری ہے جو Corynebacterium diphtheriae کے باعث پھیلتی ہے اور گلے و سانس کی نالی کو متاثر کرتی ہے، جہاں سفید یا سرمئی جھلی بننے سے سانس لینے میں شدید دشواری پیدا ہو سکتی ہے۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری جان لیوا ثابت ہو سکتی ہے، خصوصاً بچوں میں اس سے اموات کی شرح زیادہ دیکھی جاتی ہے، حالانکہ ماہرین صحت کے مطابق یہ بیماری ویکسین کے ذریعے مؤثر طور پر روکی جا سکتی ہے۔

واقعے کے بعد میہڑ میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے اور شہریوں نے صوبائی حکومت اور محکمۂ صحت سندھ سے فوری نوٹس لینے، علاقے میں ہنگامی بنیادوں پر ادویات اور ویکسین کی فراہمی یقینی بنانے اور ذمہ دار افسران کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔ عوام کا کہنا ہے کہ اگر بروقت اقدامات نہ کیے گئے تو خدشہ ہے کہ یہ موذی بیماری مزید قیمتی جانیں نگل سکتی ہے، جس کی ذمہ داری براہِ راست محکمۂ صحت پر عائد ہو گی۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے