بھاٹی گیٹ سے گل پلازہ تک، احتساب کہاں، خاموشی کیوں؟
تحریر: ڈاکٹر غلام مصطفےٰ بڈانی
بھاٹی گیٹ لاہور میں پیش آنے والا دلخراش واقعہ، جہاں ایک ماں اور اس کی کمسن بیٹی کھلے مین ہول میں گر کر جان کی بازی ہار گئیں، محض ایک حادثہ نہیں تھا بلکہ ریاستی غفلت، ادارہ جاتی ناکامی اور شہریوں کی جان کو ارزاں سمجھنے کی طویل روایت کا ایک اور خونی باب تھا۔ مگر اس واقعے کے بعد جو چیز اسے ماضی کے لاتعداد سانحات سے ممتاز بناتی ہے، وہ ہے وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کا غیر معمولی، فوری اور سخت ردعمل۔ انہوں نے اس سانحے کو ’’قتل کے مترادف‘‘ قرار دے کر دراصل ایک نئی بحث کو جنم دیاکہ کیا انتظامی غفلت بھی قتل کے زمرے میں آ سکتی ہے؟ پنجاب حکومت کا عملی رویہ اس سوال کا جواب ’’ہاں‘‘ میں دیتا نظر آیا۔ اعلیٰ سطحی اجلاس میں وزیراعلیٰ پنجاب نے کمشنر لاہور، ڈپٹی کمشنر، واسا، ایل ڈی اے، ٹیپا، ٹریفک پولیس اور پولیس سب کو یکساں ذمہ دار ٹھہرا کر اس تاثر کو توڑ دیا کہ ناکامی کا ملبہ صرف نچلے درجے کے ملازمین پر ڈالا جاتا ہے۔ تین افسران کی فوری گرفتاری، نوکری سے برطرفی، مستقبل میں سرکاری ملازمت پر پابندی، ٹھیکیدار پر ایک کروڑ روپے جرمانہ اور متاثرہ خاندان کو براہِ راست معاوضہ،یہ سب اقدامات محض اعلانات نہیں بلکہ عملی احتساب کی واضح مثال ہیں۔

اس کے برعکس اگر ہم کراچی کے گل پلازہ سانحے کی طرف نگاہ دوڑائیں تو تصویر خاصی مختلف دکھائی دیتی ہے۔ شہرِ قائد کے مصروف ترین تجارتی مرکز میں لگنے والی آگ نے درجنوں جانیں نگل لیں، سینکڑوں خاندان اجڑ گئے اور کراچی کی فائر سیفٹی، بلڈنگ کنٹرول اور ریسکیو صلاحیتوں کا بھانڈا پھوڑ دیا۔ یہ سانحہ اپنی نوعیت، پیمانے اور نتائج کے اعتبار سے بھاٹی گیٹ حادثے سے کہیں زیادہ سنگین تھا، مگر ردعمل؟ وہ زیادہ تر کاغذی، بیانیاتی اور تاخیری ثابت ہوا۔ وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ نے سانحے کو ’’قومی غم‘‘ قرار دیا، جوڈیشل انکوائری کا اعلان کیا، کیبنٹ سب کمیٹی بنائی، معاوضے کے اعلانات کیے اور مستقبل میں اصلاحات کے وعدے دہرائے۔ مگر سوال یہ ہے کہ جب لاشیں تازہ ہوں، تو کیا صرف انکوائریاں کافی ہوتی ہیں؟ کمشنر کراچی کی تحقیقاتی رپورٹ نے جلتی پر تیل کا کام کیا، جس میں نہ کسی افسر کی غلطی کا تعین ہوا، نہ کسی ادارے کی مجرمانہ غفلت کو واضح کیا گیا۔ رپورٹ نے گویا پورے نظام کو ’’کلین چٹ‘‘ دے دی، جس پر متاثرین اور عوامی حلقوں میں شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔

یہاں اصل تقابلی نکتہ ابھرتا ہے کہ پنجاب میں دو ہلاکتوں پر اعلیٰ افسران گرفتار اور برطرف ہو جاتی ہیں، جبکہ سندھ میں درجنوں اموات کے باوجود کوئی فوری گرفتاری، کوئی معطلی، کوئی عملی سزا سامنے نہیں آتی۔ سوال یہ نہیں کہ کون سا سانحہ بڑا تھا،گل پلازہ بلا شبہ کہیں زیادہ ہولناک تھا بلکہ سوال یہ ہے کہ ریاست نے کس سانحے کو کتنی سنجیدگی سے لیا؟ لاہور کے انڈیگو ہوٹل میں لگنے والی آگ بھی اس تقابلی جائزے میں اہم ہے۔ اگرچہ وہاں خوش قسمتی سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، مگر یہ واقعہ ایک بڑے سانحے کا پیش خیمہ ہو سکتا تھا۔ وزیراعلیٰ پنجاب نے وہاں ریسکیو اداروں کی کارکردگی کو سراہا، سیف سٹی کیمروں کے ذریعے لمحہ بہ لمحہ نگرانی کی، اور فوری طور پر عمارتوں کی فائر سیفٹی پر صوبائی سطح کا جائزہ لینے کا اعلان کیا۔ یہاں سزا نہیں بلکہ روک تھام (Prevention) کو ترجیح دی گئی،جو کہ ایک بالغ حکمرانی کی علامت سمجھی جاتی ہے۔

اس کے مقابلے میں گل پلازہ میں سوالات آج بھی جواب مانگ رہے ہیں کہ کیا فائر ایگزٹ موجود تھے یا تجاوزات کی نذر ہو چکے تھے؟ کیا فائر الارم اور اسپرنکلر سسٹم نصب تھے؟ اگر نہیں، تو کلیئرنس سرٹیفکیٹ کس نے جاری کیا؟ ریسکیو کے دوران وینٹی لیشن کیوں نہ بنائی گئی؟ کیا فائر بریگیڈ کے پاس جدید آلات موجود تھے؟ بدقسمتی سے کمشنر کراچی کی رپورٹ ان سوالات کا جواب دینے کے بجائے انہیں دفن کرتی نظر آئی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں سندھ حکومت کا ’’منفی چہرہ‘‘ کھل کر سامنے آتا ہے،جہاں احتساب کی جگہ تحفظ، اور اصلاح کی جگہ تاویل لے لیتی ہے۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ وزیراعلیٰ مراد علی شاہ کا انداز حکمرانی زیادہ تر پروسیجرل ہے،کمیٹیاں، رپورٹس، ٹائم لائنز۔جبکہ مریم نواز شریف کا انداز زیادہ ایگزیکٹو اور پنیٹو (Punitive) دکھائی دیتا ہے، خاص طور پر وہاں جہاں انسانی جان ضائع ہو۔ پنجاب میں پیغام واضح ہے کہ غفلت جرم ہے اور جرم کی سزا ہوگی، چاہے عہدہ کتنا ہی بڑا کیوں نہ ہو۔

یہ تقابلی جائزہ ہمیں ایک تلخ سوال پر لا کھڑا کرتا ہے کہ کیا پاکستان میں شہری کی جان کی قیمت صوبے بدلنے سے بدل جاتی ہے؟ اگر بھاٹی گیٹ میں مرنے والی بچی کسی افسر کی ہوتی، تو مریم نواز کے الفاظ میں، ’’کیا پوری مشینری ہل نہ جاتی؟‘‘مگر پنجاب حکومت نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ یہاں عام شہری کی جان بھی اتنی ہی قیمتی ہے۔ سندھ میں یہ تاثر ابھی تک قائم نہیں ہو سکا۔ آخر میں یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ سانحات قدرتی نہیں ہوتے بلکہ انتظامی ہوتے ہیں۔ فرق صرف اتنا ہے کہ کہیں ان سانحات کے بعد ریاست جاگ جاتی ہے اور کہیں ریاست مزید گہری نیند سو جاتی ہے۔ بھاٹی گیٹ اور گل پلازہ کے واقعات دراصل دو مختلف طرزِ حکمرانی کا آئینہ ہیں،ایک میں احتساب نظر آتا ہے، دوسرے میں احتیاطی پردے۔ فیصلہ اب عوام اور تاریخ نے کرنا ہے کہ کون سا راستہ زیادہ محفوظ، زیادہ منصفانہ اور زیادہ انسانی ہے۔

یہاں اصل سوال کسی ایک رپورٹ، کسی ایک افسر یا کسی ایک سانحے کا نہیں بلکہ ریاستی رویّے کا ہے۔ جب ایک صوبے میں دو جانوں کے ضیاع پر پوری انتظامی عمارت ہل جاتی ہے، افسران ہتھکڑیاں پہنتے ہیں اور غفلت کو قتل قرار دیا جاتا ہے، تو دوسرے صوبے میں درجنوں لاشوں کے بعد بھی فائلیں گردش میں رہیں، کمیٹیاں بنتی رہیں اور رپورٹیں حقائق پر پردہ ڈالتی رہیں،تو یہ فرق محض انتظامی نہیں، اخلاقی بھی بن جاتا ہے۔ سندھ حکومت کو یہ سمجھنا ہوگا کہ عوام اب بیانات، وعدوں اور رسمی انکوائریوں سے مطمئن نہیں ہوتے۔ گل پلازہ جیسے سانحات محض حادثات نہیں بلکہ منصوبہ بند غفلت کا نتیجہ ہیں، جن میں عمارتیں بھی جلتی ہیں اور ریاست کی ساکھ بھی۔ اگر ہر بڑے حادثے کے بعد صرف ’’قومی غم‘‘ کا اعلان، سیاسی صفائی اور وقت گزارنے کی حکمتِ عملی ہی اختیار کی جائے گی تو پھر سوال یہ نہیں ہوگا کہ غلطی کہاں ہوئی بلکہ یہ ہوگا کہ ریاست خود کہاں کھڑی ہے؟

وزیراعلیٰ سندھ مراد علی شاہ کے لیے اب یہ لمحۂ فکریہ ہے۔ اقتدار صرف انتظام چلانے کا نام نہیں، بلکہ جانوں کے تحفظ کی ضمانت بھی ہوتا ہے۔ اگر گل پلازہ جیسے سانحات کے ذمہ دار آج بھی محفوظ ہیں، اگر کسی افسر کے ہاتھ میں ہتھکڑی نہیں، اگر کسی محکمے پر تلوار نہیں گری، تو پھر یہ پیغام نیچے تک جاتا ہے کہ سندھ میں غفلت کی کوئی قیمت نہیں۔ سوال اب عوام پوچھ رہے ہیں، اور یہ سوال ہر جلتی عمارت، ہر کھلے مین ہول اور ہر لاش کے ساتھ مزید بلند ہو رہا ہے کہ کب تک سندھ کے عوام زندہ بھٹو کی وجہ سے اپنے پیاروں کو کھوتے رہیں گے ؟؟

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے