کندھ کوٹ (کیو این این ورلڈ/وقار اعوان کی رپورٹ) کندھ کوٹ میں واقع بینک اسلامی کی ایک برانچ اور معروف فلاحی ادارے HANDS NGO کے خلاف امدادی رقوم کی ادائیگی کے عمل میں مبینہ رشوت خوری، بدانتظامی اور مستحق افراد کے استحصال سے متعلق نہایت تشویشناک شکایات سامنے آئی ہیں، جس کے بعد شہری حلقوں میں شدید تشویش اور غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق امدادی اقساط کے حصول کے لیے بینک آنے والے مستحق خواتین اور مردوں نے الزام عائد کیا ہے کہ انہیں بینک اسلامی کی متعلقہ برانچ کے باہر موجود مبینہ ایجنٹوں کے ذریعے رقم ادا کرنے پر مجبور کیا جاتا ہے، جس کے بعد ہی ان کی امدادی رقم جاری کی جاتی ہے۔ متاثرین کے مطابق غریب اور نادار افراد صبح سویرے سے شام تک طویل قطاروں میں کھڑے رہنے پر مجبور ہوتے ہیں، جہاں انہیں نہ صرف شدید ذہنی اذیت بلکہ توہین آمیز رویے کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔
شہریوں کا کہنا ہے کہ امدادی رقوم کے حصول کے لیے آنے والے مستحق افراد سے مختلف بہانوں کے تحت پیسے طلب کیے جاتے ہیں، جو فلاحی نظام کی روح کے سراسر منافی اور کھلی ناانصافی کے مترادف ہے۔ شکایات میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ بعض افراد کو ادائیگی کے بغیر بار بار واپس بھیج دیا جاتا ہے جبکہ رشوت دینے والوں کو فوری سہولت فراہم کی جاتی ہے۔
صورتحال اس وقت مزید پیچیدہ اور سنگین شکل اختیار کر گئی جب اس معاملے پر دونوں اداروں نے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈال دی۔ بینک اسلامی کے عملے کا مؤقف ہے کہ بینک کے باہر موجود مبینہ ایجنٹوں کا تعلق HANDS NGO سے ہے اور بینک انتظامیہ کا ان سے کوئی تعلق نہیں، جبکہ دوسری جانب HANDS NGO کی انتظامیہ دعویٰ کر رہی ہے کہ یہ افراد بینک انتظامیہ کے مقرر کردہ ہیں اور این جی او کا ان سے کوئی واسطہ نہیں۔
دونوں اداروں کی جانب سے ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنے کے باعث غریب اور مستحق عوام شدید ذہنی دباؤ اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں۔ شہری حلقوں کا کہنا ہے کہ اگر یہ الزامات درست ثابت ہوتے ہیں تو یہ نہ صرف فلاحی اداروں اور بینکاری نظام کی ساکھ پر سنگین سوالیہ نشان ہے بلکہ مستحق افراد کے بنیادی حق پر کھلا ڈاکا بھی ہے۔
شہریوں اور متاثرہ افراد نے مطالبہ کیا ہے کہ متعلقہ اعلیٰ حکام اس سنگین معاملے کا فوری نوٹس لیں، بینک اسلامی اور HANDS NGO کے کردار کی شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات کروائی جائیں اور اگر کسی بھی ادارے یا فرد کے ملوث ہونے کے شواہد سامنے آئیں تو ان کے خلاف بلا امتیاز سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
عوام کا کہنا ہے کہ امدادی رقوم کا مقصد غریب اور مستحق افراد کی زندگی میں آسانی پیدا کرنا ہوتا ہے، نہ کہ انہیں مزید مشکلات، ذلت اور استحصال کا شکار بنانا۔ اگر ایسے اقدامات کو روکا نہ گیا تو فلاحی نظام سے عوام کا اعتماد مکمل طور پر اٹھ جائے گا۔