نیویارک (کیو این این ورلڈ) پاکستان نے واضح کیا ہے کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت کا جموں و کشمیر پر غیر قانونی قبضہ ہے۔ اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب عاصم افتخار نے سلامتی کونسل میں امن، انصاف اور کثیرالجہتی نظام سے متعلق مباحثے کے دوران خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قانون کی حکمرانی امن، انصاف اور اجتماعی سلامتی کے قیام کے لیے ناگزیر ہے، تاہم آج بین الاقوامی قانون کے احترام کو شدید آزمائش کا سامنا ہے۔

عاصم افتخار نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات نے ریاستوں کے درمیان عالمی قوانین کی بنیاد کو مجروح کیا ہے۔ جب قانون طاقت یا وقتی مصلحت کے آگے جھک جائے تو عدم استحکام مزید گہرا ہو جاتا ہے، تنازعات جڑ پکڑ لیتے ہیں اور پرامن بقائے باہمی کو سنگین خطرات لاحق ہو جاتے ہیں۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے کہا کہ یکطرفہ اقدامات کو معمول بنانے کی کوششیں اجتماعی سلامتی کو کمزور کرتی ہیں اور پاکستان خود بھی ایسی خلاف ورزیوں کا سامنا کر چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے گزشتہ برس پاکستانی خودمختاری کی خلاف ورزی کرتے ہوئے جارحیت کا ارتکاب کیا، جس پر پاکستان نے اپنے حقِ دفاع کو ذمہ دارانہ، محتاط اور متناسب انداز میں استعمال کیا۔

عاصم افتخار کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ردعمل نے یہ واضح پیغام دیا کہ جبر کسی صورت قابل قبول نہیں اور ریاستوں کے درمیان تعلقات کا واحد معیار بین الاقوامی قانون کا احترام ہونا چاہیے۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ جبر یا استثنیٰ سے جنم لینے والا کوئی بھی نیا معمول ناقابل قبول ہے۔

انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام کو حقِ خودارادیت سے محروم رکھنا سنگین انسانی حقوق کی خلاف ورزی ہے، جبکہ جموں و کشمیر میں بھارت کی جانب سے جاری مظالم پائیدار امن کے امکانات کو شدید نقصان پہنچا رہے ہیں۔ عاصم افتخار نے بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یکطرفہ معطلی کو بھی عالمی قوانین کی صریح خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسے اقدامات خطے میں امن و سلامتی کے لیے خطرہ ہیں۔

پاکستان کے مستقل مندوب نے مزید کہا کہ پاکستان پانی اور دیگر قدرتی وسائل کو بطور ہتھیار استعمال کرنے کے تصور کو مکمل طور پر مسترد کرتا ہے اور خطے میں امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قانون اور معاہدات کی پاسداری کو ناگزیر سمجھتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے