گھوٹکی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری) میرپورماتھلو کے علاقہ میں جروار روڈ پرگاؤں یارممد بوزدار میں پیش آنے والے ایک دل دہلا دینے والے ٹریفک حادثے میں آٹھ سالہ بچی آسیہ بوزدار تیز رفتار کار کی ٹکر سے جاں بحق ہو گئی، جس کے بعد علاقے میں شدید غم و غصے کی فضا پھیل گئی۔ حادثے کے فوراً بعد لواحقین نے انصاف کے حصول کے لیے انڈس ہائی وے پر بچی کی لاش رکھ کر شدید احتجاج اور دھرنا شروع کر دیا، جس کے باعث ٹریفک معطل ہو گئی اور مسافروں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
لواحقین کا کہنا ہے کہ کار ڈرائیور خطرناک حد تک تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا، جس کے نتیجے میں معصوم بچی موقع پر ہی دم توڑ گئی۔ ورثاء نے الزام عائد کیا کہ حادثے کے بعد ڈرائیور موقع سے فرار ہو گیا جبکہ پولیس بروقت جائے وقوعہ پر نہ پہنچی، جس کی وجہ سے نہ تو فوری کارروائی ہو سکی اور نہ ہی شواہد اکٹھے کیے جا سکے۔
احتجاج کرنے والے ورثاء نے مطالبہ کیا ہے کہ ذمہ دار کار ڈرائیور کو فوری طور پر گرفتار کر کے اس کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب تک انہیں انصاف فراہم نہیں کیا جاتا، ان کا احتجاج جاری رہے گا۔ دھرنے کے باعث انڈس ہائی وے پر گاڑیوں کی لمبی قطاریں لگ گئیں اور معمولاتِ زندگی بری طرح متاثر ہوئے۔
علاقے کے مکینوں نے بھی اس افسوسناک واقعے پر گہرے دکھ اور تشویش کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ سڑکوں پر تیز رفتاری کے بڑھتے ہوئے رجحان کو کنٹرول کرنے کے لیے مؤثر اقدامات کیے جائیں، تاکہ مستقبل میں ایسے المناک حادثات سے بچا جا سکے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ سانحہ نہ صرف ایک خاندان بلکہ پورے علاقے کے لیے ایک گہرا صدمہ ہے اور پولیس کی عدم موجودگی نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔