بھارت (کیو این این ورلڈ) مشرقی ریاست مغربی بنگال میں خطرناک نِپاہ وائرس کے پانچ کیسز کی تصدیق ہوئی ہے، جن میں متاثرین میں ڈاکٹرز اور نرسیں بھی شامل ہیں۔ مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق ایک مریض کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

حکام نے بتایا کہ متاثرہ افراد کا علاج کلکتہ اور قریبی علاقوں کے اسپتالوں میں جاری ہے جبکہ تقریباً 100 افراد کو احتیاطی طور پر گھروں میں قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ ریاستی صحت محکمے نے وائرس کے پھیلاؤ پر نظر رکھنے کے لیے نگرانی مزید سخت کر دی ہے۔

نِپاہ وائرس کو عالمی ادارۂ صحت (WHO) نے ایک ہائی رسک پیتھوجن قرار دیا ہے۔ ماہرین کے مطابق یہ وائرس زیادہ تر چمگادڑوں سے انسانی جسم میں منتقل ہوتا ہے، خاص طور پر پھلوں کے ذریعے۔ اس کے لیے فی الحال کوئی ویکسین یا مخصوص علاج دستیاب نہیں۔

امریکی ادارہ سی ڈی سی (CDC) کے مطابق نِپاہ وائرس کی ابتدائی علامات عام اور غیر مخصوص ہوتی ہیں، جن میں بخار، سر درد اور کمزوری شامل ہیں، جس کی وجہ سے بروقت تشخیص مشکل ہو سکتی ہے۔ وائرس کی انکیوبیشن مدت چار سے اکیس دن تک ہو سکتی ہے، جس سے اس کے پھیلاؤ کے خطرات بڑھ جاتے ہیں۔

صحت حکام نے عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ صفائی، ذاتی حفاظتی اقدامات اور احتیاطی تدابیر پر خصوصی توجہ دیں تاکہ وائرس کے مزید پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے