ریاض (کیو این این ورلڈ) سعودی کابینہ نے غزہ پٹی کے لیے امن منصوبے کے دوسرے مرحلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے فلسطینی علاقے کی انتظامیہ کے لیے قائم کی جانے والی کمیٹی اور امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اعلان کردہ ‘بورڈ آف پیس’ کی مکمل حمایت کر دی ہے۔ خادم الحرمین الشریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کی صدارت میں ریاض میں منعقدہ اجلاس کے دوران وزرا نے غزہ میں فوری جنگ بندی اور انسانی امداد کی بلاتعطل فراہمی کی ضرورت پر زور دیا۔ کابینہ نے مطالبہ کیا کہ فلسطینی اتھارٹی کی علاقے میں واپسی اور اسرائیلی قبضے کا خاتمہ یقینی بنایا جائے تاکہ عالمی قراردادوں اور عرب امن منصوبے کے تحت دو ریاستی حل کی بنیاد پر ایک آزاد فلسطینی ریاست کا قیام عمل میں آ سکے۔ اجلاس میں شامی جمہوری افواج کو ریاست میں ضم کرنے کے اقدام کو بھی تسلیم کیا گیا اور شام کی خودمختاری و امن کے لیے سعودی عزم کا اعادہ کیا گیا۔
یمن کی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے وزرا نے واضح کیا کہ سعودی عرب بحران کے خاتمے کے لیے مسلسل کوشاں ہے اور وہاں صحت، تعلیم اور بنیادی ڈھانچے کی ترقی کے لیے 507 ملین ڈالر کے منصوبوں کا آغاز کیا گیا ہے، جس کی بدولت سعودی عرب یمن کے لیے امداد دینے والے ممالک میں عالمی سطح پر دوسرے نمبر پر آگیا ہے۔ کابینہ کو بتایا گیا کہ وژن 2030 کے تحت ملک میں غیر تیل والی سرگرمیوں نے 5 سے 10 فیصد سالانہ شرح نمو حاصل کی ہے جو معاشی پائیداری کی عکاس ہے۔ اجلاس کے دوران پاکستان، عراق اور کرغزستان کے ساتھ طے شدہ مختلف مفاہمت کی یادداشتوں کا جائزہ لیا گیا اور متعدد اعلیٰ حکام کی ترقیوں کی منظوری بھی دی گئی۔