کراچی (کیو این این ورلڈ)گل پلازہ سانحہ، آگ بے قابو، متعدد افراد لاپتا، ہلاکتوں میں اضافے کا خدشہ، وزیراعلیٰ سندھ کا انکوائری کا حکم
تفصیلات کے مطابق کراچی کے مصروف علاقے ایم اے جناح روڈ پر واقع گل پلازہ میں ہفتہ کی رات سوا 10 بجے کے قریب لگنے والی خوفناک آگ نے شہر کو سوگوار کر دیا۔ گراؤنڈ فلور سے بھڑکنے والی آگ دیکھتے ہی دیکھتے تیسری منزل تک پھیل گئی، جبکہ کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود آگ پر مکمل قابو نہ پایا جا سکا۔ آگ کی شدت کے باعث عمارت کے متعدد حصے گر گئے اور عمارت کا عقبی حصہ مکمل طور پر زمین بوس ہو چکا ہے، جب کہ سامنے کا حصہ بھی انتہائی کمزور ہو چکا ہے۔
فائر بریگیڈ کی ابتدائی رپورٹ کے مطابق اب تک 6 افراد جاں بحق اور 17 زخمی ہو چکے ہیں، جبکہ کے ایم سی فائر بریگیڈ کا ایک فائر فائٹر فرقان عمارت گرنے کے نتیجے میں شہید ہو گیا، جب کہ ایک اور فائر فائٹر ملبے کی زد میں آ کر زخمی ہوا۔ حکام کے مطابق آگ پر تقریباً 60 فیصد تک قابو پا لیا گیا ہے، تاہم وقفے وقفے سے عمارت کے اندر دوبارہ آگ بھڑکنے کا سلسلہ جاری ہے۔ تین اطراف سے فائر فائٹنگ جاری ہے اور پانی وافر مقدار میں موجود ہے، مگر آگ کو مکمل طور پر بجھانا سب سے بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔
آتشزدگی کے بعد متعدد افراد تاحال لاپتا ہیں۔ لاپتا افراد کے اہلخانہ مختلف اسپتالوں، خصوصاً سول اسپتال کے برنس سینٹر کے باہر اپنے پیاروں کی تلاش میں موجود ہیں۔ اہلخانہ کا کہنا ہے کہ رات تک لاپتا افراد سے رابطہ تھا، تاہم اب ان کے موبائل فون بند ہیں، جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ کئی افراد اب بھی عمارت کے اندر موجود ہو سکتے ہیں۔
ترجمان سندھ حکومت سعدیہ جاوید کے مطابق گل پلازہ میں شدید تپش کے باعث فائر فائٹرز کو اندر داخل ہونے میں مشکلات کا سامنا ہے، جبکہ عمارت میں موجود کیمیکل اور پرفیوم کی دکانیں ریسکیو آپریشن میں رکاوٹ بن رہی ہیں۔ آگ بجھانے کے لیے پانی اور فوم کا استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ متاثرین کے ساتھ کھڑی ہے اور گل پلازہ کے متاثرین کے نقصانات کا ازالہ کیا جائے گا۔ ترجمان کے مطابق عمارت میں فائر سیفٹی کے مؤثر انتظامات اور ایمرجنسی ایگزٹ موجود نہیں تھے، جس کے باعث آگ تیزی سے پھیلی۔
وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے کمشنر کراچی کو فوری انکوائری کی ہدایت جاری کر دی ہے۔ انہوں نے آتشزدگی کی وجوہات معلوم کر کے تفصیلی رپورٹ طلب کی، فائر سیفٹی انتظامات کی جانچ اور فائر سیفٹی قوانین پر سختی سے عملدرآمد کا حکم دیا، جبکہ غفلت یا لاپرواہی ثابت ہونے پر ذمہ داروں کے خلاف کارروائی کی ہدایت بھی کی۔ وزیراعلیٰ سندھ نے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور کراچی کی کمرشل عمارتوں میں فوری فائر سیفٹی آڈٹ کرانے کا بھی حکم دیا۔
صدر مملکت آصف علی زرداری اور وزیراعظم شہباز شریف نے بھی گل پلازہ آتشزدگی پر گہرے دکھ اور افسوس کا اظہار کیا ہے۔ صدر مملکت نے جاں بحق افراد کے لواحقین سے دلی ہمدردی کرتے ہوئے سندھ حکومت اور متعلقہ اداروں کو متاثرہ افراد اور تاجروں کو فوری اور ہر ممکن امداد فراہم کرنے کی ہدایت کی۔ وزیراعظم شہباز شریف نے ریسکیو آپریشن میں تمام اداروں کے باہمی تعاون پر زور دیتے ہوئے زخمیوں کو بہترین طبی سہولیات فراہم کرنے اور متاثرہ تاجروں کی ہر ممکن مدد کی ہدایت کی۔ وزیرداخلہ محسن نقوی نے بھی واقعے پر اظہار افسوس کرتے ہوئے جاں بحق افراد کے لواحقین سے تعزیت اور زخمیوں کی جلد صحتیابی کی دعا کی۔
واضح رہے کہ گل پلازہ میں لگی آگ کو تیسرے درجے کی آتشزدگی قرار دیا گیا ہے، جبکہ ریسکیو اور فائر فائٹنگ کا عمل تاحال جاری ہے اور لاپتا افراد کی تلاش کے لیے کوششیں تیز کر دی گئی ہیں۔