کراچی (کیو این این ورلڈ) شہرِ قائد کے مصروف ترین تجارتی مرکز ایم اے جناح روڈ پر واقع ‘گل پلازہ’ میں لگنے والی تیسرے درجے کی ہولناک آگ نے تباہی مچا دی ہے، جس کے نتیجے میں جاں بحق افراد کی تعداد 6 ہو گئی ہے جبکہ 20 زخمیوں میں سے 11 کی حالت سول اسپتال میں تشویشناک بتائی جا رہی ہے۔ جاں بحق ہونے والوں میں 30 سالہ عامر، 55 سالہ فراز اور 40 سالہ آصف شامل ہیں۔ ابتدائی اطلاعات کے مطابق آگ شاپنگ پلازہ کے میزنائن فلور پر لگی جس نے دیکھتے ہی دیکھتے گراؤنڈ، فرسٹ فلور اور بیسمنٹ کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ عمارت میں موجود مصنوعی پھولوں اور دیگر آتش گیر سامان کے باعث آگ کی شدت میں بے پناہ اضافہ ہوا، جس سے ایک ہزار سے زائد دکانوں میں موجود اربوں روپے کا مال جل کر خاکستر ہو گیا ہے۔ آگ کی تپش سے عمارت کے ستونوں میں دراڑیں پڑ چکی ہیں اور پرانی تعمیرات ہونے کے باعث پوری عمارت کے گرنے کا شدید خطرہ پیدا ہو گیا ہے۔

ریسکیو آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ کے عملے کو پانی کی شدید کمی اور ٹریفک جام کی وجہ سے سخت مشکلات کا سامنا کرنا پڑا، جس پر قابو پانے کے لیے نیپا اور صفورہ ہائیڈرنٹس پر فوری ایمرجنسی نافذ کی گئی۔ ڈی جی رینجرز کی ہدایت پر سندھ رینجرز کے دستے بھی جائے وقوعہ پر پہنچ گئے اور امدادی کاموں میں بھرپور حصہ لیا۔ ایس ایس پی سٹی عارف عزیز کے مطابق اب تک 60 سے زائد افراد کو عمارت سے بحفاظت نکالا جا چکا ہے، تاہم اب بھی کئی افراد کے اندر پھنسے ہونے کا خدشہ ہے۔ آپریشن کے دوران فائر بریگیڈ کی سیڑھی ٹوٹنے سے دو افراد گر کر زخمی بھی ہوئے۔ چیف فائر آفیسر ہمایوں خان نے بتایا کہ آگ کی شدت اتنی زیادہ ہے کہ اس پر فوری قابو پانا ممکن نہیں، جبکہ تپش کے باعث فائر فائٹرز کو اندر جانے میں دشواری کا سامنا ہے۔

دوسری جانب سندھ حکومت کی ترجمان سعدیہ جاوید نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ اور میئر کراچی صورتحال کو مسلسل مانیٹر کر رہے ہیں اور سول اسپتال میں ہائی الرٹ نافذ کر دیا گیا ہے۔ ایم اے جناح روڈ کو ہر قسم کی ٹریفک کے لیے بند کر دیا گیا ہے تاکہ فائر ٹینڈرز اور ایمبولینسز کی نقل و حرکت میں رکاوٹ نہ آئے۔ متاثرہ تاجروں اور صدر گل پلازہ تاجر ایسوسی ایشن تنویر پاستا نے اربوں روپے کے نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کرتے ہوئے حکومتی امداد کی اپیل کی ہے۔ فائر بریگیڈ حکام کا کہنا ہے کہ آگ میزنائن فلور سے بیسمنٹ تک پہنچ چکی ہے اور مزید واٹر ٹینکرز طلب کر لیے گئے ہیں، جبکہ کولنگ کے عمل میں مزید کئی گھنٹے لگ سکتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے