کراچی (بشیربلوچ کی رپورٹ) سندھ ہائیکورٹ نے اپنی سگی بھانجی کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والے ملزم نصیب گل کی سزا کے خلاف دائر اپیل پر سماعت کے دوران سخت برہمی کا اظہار کیا ہے۔ جسٹس محمد اقبال کلہوڑو نے ریمارکس دیے کہ ماموں کا رشتہ انتہائی مقدس اور پیارا ہوتا ہے، اس اعتماد کو ٹھیس پہنچانے والے کو کڑی سزا ملنی چاہیے۔ سماعت کے دوران اس وقت تلخی پیدا ہوئی جب ملزم کے وکیل عدالت کی اجازت کے بغیر متاثرہ بچی کی والدہ کو ہمراہ لے آئے تاکہ ان سے بیان دلوا کر ملزم کو ریلیف دلایا جا سکے۔ عدالت نے وکیل کی سخت سرزنش کرتے ہوئے کہا کہ یہ قتل کا مقدمہ نہیں جس میں ورثاء کے معاف کرنے سے کیس ختم ہو جائے، بلکہ یہ ایک سنگین معاشرتی جرم ہے جس میں ایسے ہتھکنڈوں سے کوئی فائدہ حاصل نہیں کیا جا سکتا۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ خاتون کو قانون کا علم نہیں لیکن وکیل انہیں اس طرح استعمال کرنے سے گریز کریں۔ استغاثہ کے مطابق ملزم نصیب گل کو ماتحت عدالت نے 2021 میں نیو کراچی انڈسٹریل ایریا میں درج مقدمے میں جرم ثابت ہونے پر عمر قید اور ایک لاکھ روپے جرمانے کی سزا سنائی تھی۔ تفتیش میں یہ بات سامنے آئی تھی کہ بچی کی والدہ پولیو ورکر کے طور پر کام کے لیے گھر سے باہر جاتی تھیں، جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے سگے ماموں نے بچی کو زیادتی کا نشانہ بنایا اور اسے جان سے مارنے کی دھمکیاں دے کر خاموش کروا دیا تھا۔ ملزم نے والدہ کے دوسرے نکاح کے بعد بھی یہ قبیح فعل جاری رکھنے کی کوشش کی، تاہم بچی کی مزاحمت پر معاملہ سامنے آیا اور مقدمہ درج ہوا۔ ہائیکورٹ نے پولیس فائل پیش نہ ہونے کے باعث کیس کی سماعت غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کر دی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے