لاہور (کیو این این ورلڈ) انسداد دہشت گردی کی عدالت نے 9 مئی کے جلاؤ گھیراؤ اور ہنگامہ آرائی کے مقدمات میں تحریک انصاف کے متعدد رہنماؤں کی عبوری ضمانتوں میں 13 فروری تک توسیع کر دی ہے۔ کوٹ لکھپت جیل میں قائم خصوصی عدالت کے ججز ارشد جاوید اور منظر علی گل نے کیس کی سماعت کی، جس میں سابق وفاقی وزراء شاہ محمود قریشی، اسد عمر، جمشید چیمہ، مسرت جمشید چیمہ اور شیخ امتیاز سمیت دیگر ملزمان پیش ہوئے۔ سماعت کے دوران علیمہ خان، عظمیٰ خان، اعظم سواتی اور فواد چوہدری کی جانب سے حاضری معافی کی درخواستیں دائر کی گئیں جنہیں عدالت نے منظور کر لیا۔ عدالت نے وکلاء کو ہدایت کی ہے کہ وہ آئندہ سماعت پر ضمانتوں کے معاملے پر اپنے حتمی دلائل پیش کریں۔
پی ٹی آئی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مسلم لیگ (ن) کا دفتر اور کلمہ چوک پر کنٹینر جلانے سمیت 9 مئی کے مجموعی طور پر چھ مقدمات زیرِ سماعت ہیں۔ جے آئی ٹی کے تفتیشی افسران نے عدالت میں اپنی رپورٹ جمع کروا رکھی ہے جس میں علیمہ خان اور عظمیٰ خان سمیت تمام نامزد ملزمان کو گناہگار قرار دیا گیا ہے۔ ان مقدمات میں اعظم سواتی، حافظ فرحت عباس، بلال اعجاز، رائے حسن نواز، علی امتیاز وڑائچ، محمد احمد چٹھہ، محمد اشرف سوہنا اور رائے مرتضیٰ اقبال کے نام بھی شامل ہیں۔ ملزمان پر الزام ہے کہ انہوں نے پرتشدد مظاہروں کے دوران سرکاری و نجی املاک کو نقصان پہنچایا اور اشتعال انگیزی کی۔
دوسری جانب، جناح ہاؤس اور عسکری ٹاور جلاؤ گھیراؤ کے مقدمات میں سابق گورنر پنجاب عمر سرفراز چیمہ اور سابق صوبائی وزیر ڈاکٹر یاسمین راشد کی درخواستِ ضمانت پر بھی سماعت ہوئی۔ انسداد دہشت گردی عدالت کے جج منظر علی گل نے ملزمان کے وکلاء سے دلائل طلب کرتے ہوئے پولیس کو حکم دیا کہ وہ مقدمات کا تمام ریکارڈ عدالت میں پیش کرے۔ عدالت نے ان دونوں رہنماؤں کی درخواستِ ضمانت پر مزید کارروائی 21 جنوری تک ملتوی کر دی ہے۔ پی ٹی آئی قیادت ان مقدمات کو سیاسی انتقام قرار دے رہی ہے جبکہ پراسیکیوشن کا اصرار ہے کہ ٹھوس شواہد کی بنیاد پر کارروائی کی جا رہی ہے۔