نئی دہلی (کیو این این ورلڈ) بھارت کی کٹھ پتلی عدالت نے کشمیری حریت رہنما اور دخترانِ ملت کی سربراہ آسیہ اندرابی کو ایک جھوٹے سیاسی مقدمے میں مجرم قرار دے دیا ہے۔ کشمیر میڈیا سروس کے مطابق بدنام زمانہ بھارتی تحقیقاتی ادارے ‘این آئی اے’ کی عدالت نے نہ صرف آسیہ اندرابی بلکہ ان کی ساتھی حریت رہنماؤں فہمیدہ صوفی اور ناہیدہ نسرین کو بھی اس من گھڑت کیس میں مجرم ٹھہرایا ہے۔ ان حریت پسند کشمیری خواتین کو سزا سنانے کے لیے 17 جنوری کی تاریخ مقرر کی گئی ہے۔
رپورٹ کے مطابق حریت رہنما آسیہ اندرابی کو اپریل 2018 میں گرفتار کیا گیا تھا اور وہ تب سے بھارتی قید و بند کی صعوبتیں برداشت کر رہی ہیں۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ آسیہ اندرابی کے شوہر عاشق حسین بھی گزشتہ تین دہائیوں سے مختلف جھوٹے مقدمات کے تحت بھارتی جیل میں قید ہیں۔ کشمیری حلقوں نے بھارتی عدالت کے اس فیصلے کو سیاسی انتقام قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے اوچھے ہتھکنڈوں سے کشمیریوں کی تحریکِ آزادی کو دبایا نہیں جا سکتا۔