میڈرڈ (کیو این این ورلڈ) اسپین ڈیڑھ صدی کے طویل انتظار کے بعد ایک بار پھر ملکہ کے استقبال کے لیے تیار ہے اور اس بار شاہی تاج شہزادی لیونور کے سر سجے گا، جو 1868 میں ملکہ ازابیلا دوم کے بعد اسپین کی پہلی بااختیار خاتون حکمراں ہوں گی۔ اسپین کے موجودہ بادشاہ فیلپے ششم اور ملکہ لیٹیزیا کی بڑی صاحبزادی، 20 سالہ شہزادی لیونور کو اس عظیم منصب کے لیے غیر معمولی طور پر تیار کیا گیا ہے، جس میں صرف درباری آداب ہی نہیں بلکہ سخت ترین عسکری تربیت بھی شامل ہے۔ 2014 میں اپنے والد کی تخت نشینی کے ساتھ ہی ولی عہد بننے والی شہزادی لیونور نے برطانیہ کے معروف یو ڈبلیو سی اٹلانٹک کالج سے تعلیم مکمل کرنے کے بعد اپنی زندگی کے اہم سال دفاعی مہارتیں سیکھنے میں صرف کیے ہیں۔
مستقبل کی ملکہ کی تیاری کا سفر میدانِ جنگ سے لے کر فضاؤں کی وسعتوں تک پھیلا ہوا ہے؛ انہوں نے اگست 2023 میں آرمی ٹریننگ کا آغاز کیا، جس کے بعد بحریہ کی تربیت کے دوران ایک تربیتی جہاز پر عملے کے عام رکن کی حیثیت سے 140 دنوں میں 17 ہزار میل کا طویل سمندری سفر طے کیا۔ شہزادی لیونور نے جدید جنگی جہاز ‘بلاس دے لیزو’ پر بھی عملی خدمات انجام دیں اور دسمبر 2025 میں پی سی-21 طیارے میں پہلی تنہا پرواز مکمل کر کے ہسپانوی شاہی خاندان کی پہلی خاتون پائلٹ بننے کا اعزاز حاصل کیا۔ ان کی ان عسکری خدمات کے اعتراف میں انہیں ایئر فورس کے گولڈ میڈل سے بھی نوازا گیا ہے، جو انہیں مستقبل میں مسلح افواج کی کمانڈر انچیف کے طور پر مضبوط بناتا ہے۔ شہزادی لیونور نہ صرف عسکری محاذ پر ماہر ہیں بلکہ وہ ہسپانوی، انگریزی، فرانسیسی، عربی اور مینڈرن سمیت کئی عالمی زبانوں پر عبور رکھتی ہیں، جو انہیں عالمی سطح پر ایک بااثر اور منفرد شاہی شخصیت کے طور پر ابھارتی ہیں۔