ممبئی (کیو این این ورلڈ) بالی وڈ کی معروف اداکارہ اور سابق مِس انڈیا سلینا جیٹلی نے اپنی شادی کی 15ویں سالگرہ پر شوہر سے علیحدگی اور برسوں پر محیط تشدد کی لرزہ خیز داستان بیان کر کے مداحوں کو شدید دکھی کر دیا ہے۔ فلم ’نو انٹری‘ اور ’جانشین‘ جیسی فلموں سے شہرت پانے والی اداکارہ نے انکشاف کیا ہے کہ ان کے آسٹرین شوہر پیٹر ہیگ نے ستمبر میں شادی کی سالگرہ کے موقع پر تحفے کے بہانے انہیں مقامی پوسٹ آفس بلا کر طلاق کے کاغذات تھما دیے اور کہا کہ ’یہ تمہاری سالگرہ کا تحفہ ہے‘۔ سلینا جیٹلی کے مطابق وہ طویل عرصے سے گھریلو تشدد کا شکار تھیں اور بالآخر اکتوبر 2025 میں انہیں اپنی عزتِ نفس بچانے کے لیے رات کے اندھیرے میں پڑوسیوں کی مدد سے انتہائی کسمپرسی کی حالت میں آسٹریا سے نکل کر بھارت آنا پڑا۔ اداکارہ نے جذباتی پوسٹ میں بتایا کہ اس جدوجہد میں انہیں نہ صرف اپنے بچوں سے جدا ہونا پڑا بلکہ اب عدالتی احکامات کے باوجود انہیں بچوں سے بات تک نہیں کرنے دی جا رہی اور بچوں کو ان کے خلاف اکسایا جا رہا ہے۔
اداکارہ نے اپنے شوہر پر اثاثوں پر قبضے کی کوشش کا الزام بھی عائد کیا ہے اور بتایا کہ بھارت واپسی پر انہیں اپنے ہی گھر میں داخل ہونے کے لیے قانونی جنگ لڑنی پڑی کیونکہ ان کے شوہر نے ملکیت کا دعویٰ کر رکھا تھا۔ سلینا جیٹلی کا کہنا ہے کہ انہوں نے بچوں کی خاطر پرامن علیحدگی کی کوشش کی لیکن ان سے مطالبہ کیا گیا کہ وہ شادی سے قبل کی اپنی ذاتی جائیداد سے بھی دستبردار ہو جائیں اور ایسی شرائط مانیں جو ایک ماں اور آزاد عورت کے وقار کے خلاف ہوں۔ ان تمام گھریلو اور قانونی مسائل کے ساتھ ساتھ اداکارہ ایک اور خاندانی بحران کا بھی شکار ہیں، کیونکہ ان کے بھائی اس وقت متحدہ عرب امارات کی جیل میں قید ہیں جن کی رہائی کے لیے وہ مسلسل قانونی تگ و دو کر رہی ہیں۔ برسوں تک خاموشی سے دکھ جھیلنے والی اداکارہ نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنی عزتِ نفس کی خاطر سب کچھ کھو دیا ہے اور اب وہ ایک مشکل قانونی اور مالی جنگ لڑ رہی ہیں۔