تہران (کیو این این ورلڈ) ایرانی حکومت نے ملک بھر میں احتجاجی مظاہروں پر مکمل قابو پانے کا دعویٰ کرتے ہوئے کہا ہے کہ اب حالات پوری طرح معمول پر آچکے ہیں۔ ایرانی سرکاری ٹی وی کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ملک کے کسی بھی شہر سے بے امنی یا تشدد کا کوئی واقعہ رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے امریکی میڈیا کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں تصدیق کی ہے کہ ملک میں اب امن و سکون قائم ہے اور سکیورٹی صورتحال مکمل طور پر قابو میں ہے۔ انہوں نے عالمی سطح پر گردش کرنے والی ان خبروں کو قطعی طور پر مسترد کر دیا کہ حکومت مظاہرین کو پھانسی دینے کا ارادہ رکھتی ہے۔ عباس عراقچی نے دو ٹوک الفاظ میں واضح کیا کہ ایران میں لوگوں کو پھانسی دینے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے اور اس طرح کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔

وزیر خارجہ نے اپنے انٹرویو میں بتایا کہ ایران میں معاشی مشکلات کے خلاف دس دن تک پرامن احتجاج جاری رہا، لیکن بعد میں تین دن تک اسرائیل کی ایما پر منظم تشدد کیا گیا جسے سکیورٹی فورسز نے ناکام بنا دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مظاہروں میں شامل شر پسند عناصر کو بیرون ملک سے کنٹرول کیا جا رہا تھا جنہوں نے پولیس اہلکاروں پر گولیاں چلائیں اور داعش طرز کی دہشت گردانہ کارروائیاں کرتے ہوئے اہلکاروں کو زندہ جلایا۔ عباس عراقچی نے امریکا کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ وہ ماضی جیسی غلطی دوبارہ نہ دہرائے ورنہ اسے پہلے سے بھی سخت نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا، کیونکہ ایرانی قوم کا عزم بمباری سے نہیں توڑا جا سکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگرچہ ایران کو صدر ٹرمپ اور بعض یورپی ممالک سے خطرات لاحق ہیں اور ان کا امریکا کے ساتھ تجربہ بھی اچھا نہیں رہا، تاہم وہ اب بھی جنگ کے مقابلے میں سفارت کاری کو ترجیح دیتے ہیں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے