نئی دہلی (کیو این این ورلڈ) بھارت میں مودی سرکار کے دورِ حکومت میں مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات اور پرتشدد کارروائیوں میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ امریکی ریسرچ گروپ ‘انڈیا ہیٹ لیب’ (India Hate Lab) کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین رپورٹ کے مطابق، سال 2025 میں اقلیتوں کے خلاف نفرت انگیز واقعات میں 13 فیصد اضافہ ہوا ہے۔ اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ برس بھارت بھر میں مجموعی طور پر 1,318 ایسے واقعات رپورٹ ہوئے، جو کہ 2024 میں درج کیے گئے 1,165 اور 2023 کے 668 واقعات کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ان واقعات کی بڑی تعداد (تقریباً 88 فیصد) ان ریاستوں میں پیش آئی جہاں نریندر مودی کی جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) براہِ راست یا اپنے اتحادیوں کے ساتھ برسرِ اقتدار ہے۔

رپورٹ کے مطابق، پاک بھارت کشیدگی کے دوران 22 اپریل سے 7 مئی تک کا عرصہ اقلیتوں کے لیے سب سے زیادہ خطرناک ثابت ہوا، جس کے دوران ریکارڈ 100 نفرت انگیز واقعات درج کیے گئے۔ انڈیا ہیٹ لیب نے اپنی تحقیق میں بتایا کہ 50 فیصد کے قریب نفرت انگیز تقاریر میں مختلف سازشی نظریات جیسا کہ ‘لو جہاد’، ‘لینڈ جہاد’ اور ‘ووٹ جہاد’ کا سہارا لے کر مسلمانوں کو نشانہ بنایا گیا۔ ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں نے بھی مودی حکومت کے اس آمرانہ رویے اور اقلیتوں کے خلاف بڑھتی ہوئی بدسلوکی پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ عالمی اداروں کا کہنا ہے کہ بھارت میں مذہبی منافرت اب سیاسی ہتھیار بن چکی ہے اور ریاستی سرپرستی میں ہونے والے ان مظالم نے بھارت کے سیکولر ریاست ہونے کے دعوے کی قلعی کھول دی ہے، جس سے خطے کا امن اور سماجی ڈھانچہ شدید خطرے میں پڑ گیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے