اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) پاکستان میں سیاسی استحکام اور مکالمے کے فروغ کے لیے نو تشکیل شدہ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی نے اپنے اعلامیے میں ملک کے پانچ بڑے سیاسی ستونوں میں سے تین کے نام شامل کر لیے ہیں، جبکہ اعلامیے میں صرف بانی پی ٹی آئی عمران خان کی رہائی کے بجائے پورے ملک کی موجودہ حالات سے رہائی پر زور دیا گیا ہے۔ نیشنل ڈائیلاگ کمیٹی کے زیرِ اہتمام وفاقی دارالحکومت میں اہم نیشنل کانفرنس منعقد ہوئی، جس میں پی ٹی آئی نے بطور جماعت بڑی حد تک بائیکاٹ کیا، تاہم اس سے وابستہ رہنے والے اور ہمدردی رکھنے والے متعدد اہم رہنما شریک ہوئے۔ کانفرنس میں سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، جماعت اسلامی کے سینئر رہنما لیاقت بلوچ، شیر افضل مروت، بیرسٹر سیف، عمران اسماعیل اور سابق سینیٹر شہزاد وسیم نے شرکت کی، جبکہ سینئر صحافی کاشف عباسی، حفیظ اللہ نیازی اور اطہر کاظمی بھی اس موقع پر موجود تھے۔
کانفرنس کے دوران ملک کے موجودہ سیاسی بحران، مستقبل کے مذاکراتی عمل اور قومی اتفاقِ رائے کی ضرورت پر تفصیلی گفتگو کی گئی۔ شرکاء نے اس بات پر اتفاق کیا کہ پاکستان کو اس وقت جن سنگین سیاسی، جمہوری اور سیکیورٹی چیلنجز کا سامنا ہے، ان کا واحد حل صرف اور صرف بامعنی مذاکرات اور ایک مشترکہ قومی بیانیے کی تشکیل میں ہی پوشیدہ ہے۔ مقررین کا کہنا تھا کہ ملک کو اس وقت جس غیر یقینی صورتحال کا سامنا ہے اس سے نکلنے کے لیے تمام اسٹیک ہولڈرز کو اپنی انا پس پشت ڈال کر ایک میز پر بیٹھنا ہوگا تاکہ عوام کو درپیش مسائل کا حل تلاش کیا جا سکے۔ اعلامیے میں واضح کیا گیا کہ انفرادی رہائیوں کے بجائے نظام کی درستگی اور ملکی بقا کو اولیت دینا وقت کا اہم تقاضا ہے۔