گھوٹکی (کیو این این ورلڈ/نامہ نگار مشتاق علی لغاری)چیف جسٹس سندھ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے ڈسٹرکٹ بار گھوٹکی سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ نوجوان وکلا عدلیہ اور قوم کا روشن مستقبل ہیں، جنہیں کامیابی حاصل کرنے کے لیے ایمانداری، محنت اور لگن کو اپنا شعار بنانا ہو گا۔ انہوں نے عہدوں کی تبدیلی کو ایک فطری تسلسل قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج وہ اس منصب پر ہیں تو کل کوئی اور ہو گا، تاہم اہم بات یہ ہے کہ نوجوان اس وقت کی قدر کریں اور جدید ڈیجیٹل دور کے مواقع سے بھرپور فائدہ اٹھائیں۔ جسٹس ظفر احمد راجپوت نے کہا کہ گوگل کے اس دور میں تمام قانونی مواد موبائل فون پر دستیاب ہے، اس لیے مسلسل سیکھنے کا عمل جاری رہنا چاہیے کیونکہ آنے والا وقت نوجوانوں کا ہی ہے۔

چیف جسٹس سندھ نے بدامنی کو معاشی ترقی کی راہ میں بڑی رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ سرحدی اضلاع میں امن و امان کے مسائل کی وجہ سے روزگار اور سرمایہ کاری متاثر ہوتی ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج گھوٹکی کو انتظامیہ کے ساتھ مل کر امن و امان کی صورتحال پر اجلاس منعقد کرنے کی ہدایت کی۔ عدالتی امور پر بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ججز کی کمی دور کرنے کے لیے بھرتیوں کا عمل جاری ہے، جبکہ گھوٹکی کی عدالتوں میں ایک ہفتے کے اندر لوئر اسٹاف کی بھرتی شروع کرنے کا حکم دے دیا گیا ہے۔ انہوں نے اعلان کیا کہ چیف جسٹس آف پاکستان کے وژن کے مطابق میرپور ماتھیلو، ڈہرکی اور اوباوڑو کی عدالتوں اور بار رومز کو دو مراحل میں سہولیات فراہم کی جائیں گی، جس میں آر او پلانٹ، ای لائبریری اور سولر سسٹمز کی تنصیب شامل ہے تاکہ وکلا کو سازگار ماحول میسر آ سکے۔