اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) حکومت پاکستان کی جانب سے فائیو جی اسپیکٹرم کی نیلامی کی تیاریوں کے دوران ملک کے بڑے ٹیلی کام آپریٹرز نے شدید خدشات کا اظہار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ سستے اور قابلِ رسائی آلات کی دستیابی کے بغیر اس ٹیکنالوجی کی جانب جلد بازی معاشی طور پر نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہے۔ ٹیلی کام آپریٹرز کا مؤقف ہے کہ فائیو جی کے قبل از وقت نفاذ سے ملک کا قیمتی زرمبادلہ ضائع ہونے کا خدشہ ہے اور سرمایہ کاری موجودہ کنیکٹیوٹی کو بہتر بنانے کے بجائے غیر ضروری طور پر نئے نیٹ ورکس کی جانب منتقل ہو جائے گی۔ صنعت کے ماہرین کے مطابق پاکستان میں فور جی کی پہلی نیلامی کو ایک دہائی سے زیادہ عرصہ گزر چکا ہے، لیکن اس کے باوجود کروڑوں صارفین آج بھی انٹرنیٹ کی بنیادی سہولت سے محروم ہیں، جو کہ پالیسی سازوں کے لیے ایک ’’عبرت ناک سبق‘‘ ہونا چاہیے۔
ٹیلی کام آپریٹرز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے چیئرمین عامر ابراہیم نے اس حوالے سے پالیسی سازوں پر زور دیا ہے کہ وہ ماضی کی غلطیوں کو دہرانے سے گریز کریں اور پہلے سے موجود نیٹ ورک کے مسائل حل کرنے پر توجہ دیں۔ ان کا کہنا ہے کہ فائیو جی کی کامیابی کے لیے ضروری ہے کہ مارکیٹ میں اسپورٹ کرنے والے ہینڈ سیٹس عام صارف کی پہنچ میں ہوں، ورنہ یہ بھاری سرمایہ کاری ملکی معیشت پر بوجھ بن جائے گی۔ صنعت کے رہنماؤں نے مشورہ دیا ہے کہ حکومت اسپیکٹرم کی نیلامی میں محض ریونیو کے حصول کو ہدف بنانے کے بجائے ڈیجیٹل شمولیت اور انفراسٹرکچر کی مضبوطی کو ترجیح دے تاکہ ملک میں انٹرنیٹ کی رسائی کا خواب درست معنوں میں شرمندہ تعبیر ہو سکے۔