لاہور (کیو این این ورلڈ) پنجاب میں امن و امان کی صورتحال کے حوالے سے تشویشناک اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جن کے مطابق سال 2025 میں صوبے بھر میں بھتہ خوری کے مجموعی طور پر 625 واقعات رپورٹ ہوئے۔ کاؤنٹر ٹیررازم ڈیپارٹمنٹ (سی ٹی ڈی) نے بھتہ خور گروپس کی نشاندہی اور ان کے خلاف مؤثر کارروائی کے لیے مختلف شہروں سے موصول ہونے والی شکایات اور درج مقدمات کی تفصیلی رپورٹ مرتب کر لی ہے۔ سرکاری ریکارڈ کے مطابق بھتہ خوری کے سب سے زیادہ 70 واقعات ملتان میں رپورٹ ہوئے، جبکہ صوبائی دارالحکومت لاہور 68 واقعات کے ساتھ دوسرے نمبر پر رہا، جس سے بڑے شہروں میں تاجر برادری اور شہریوں کو درپیش سیکیورٹی خطرات کی عکاسی ہوتی ہے۔
اعداد و شمار کے مطابق فیصل آباد اور بہاولپور میں بھتہ مانگنے کے 38، 38 واقعات پر مقدمات درج کیے گئے، جبکہ مظفر گڑھ میں متحرک جرائم پیشہ افراد کی جانب سے بھتہ طلب کرنے کے 37 واقعات سامنے آئے۔ اسی طرح قصور میں 29، شیخوپورہ اور راولپنڈی میں 26، 26 جبکہ گوجرانوالہ میں 22 واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ سی ٹی ڈی حکام کا کہنا ہے کہ ان واقعات میں ملوث گروہوں کا مکمل ڈیٹا تیار کر لیا گیا ہے اور شہریوں کو ہراساں کرنے والے عناصر کے خلاف کریک ڈاؤن شروع کیا جا رہا ہے۔ حکام نے عزم ظاہر کیا ہے کہ بھتہ خوری میں ملوث افراد کے خلاف سخت ترین قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی تاکہ عوامی جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنایا جا سکے۔