لاہور (کیو این این ورلڈ) یاتری ویزے پر پاکستان آکر ضلع ننکانہ صاحب کے رہائشی سے شادی کرنے والی بھارتی خاتون سربجیت کور کو ویزے کی مدت ختم ہونے اور غیر قانونی قیام کی بنیاد پر بھارت ڈی پورٹ کر دیا گیا ہے۔ سربجیت کور کو ڈی پورٹ کرنے کی درخواست کی پیروی کرنے والے وکیل علی چنگیزی سندھو کے مطابق خاتون کا ویزہ نومبر 2025 میں ختم ہو چکا تھا، جس کے بعد وہ ملک میں غیر قانونی طور پر مقیم تھیں۔ انہیں ‘فارنر ایکٹ 1946’ اور وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کے اسٹینڈنگ آرڈرز کے تحت ملک بدر کیا گیا ہے۔ اس معاملے پر سابق ایم پی اے مہندر پال سنگھ نے وکیل علی چنگیزی سندھو کی وساطت سے لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا تھا، جس پر عدالت عالیہ نے کابینہ ڈویژن، آئی جی پنجاب اور چیف سیکرٹری سمیت دیگر متعلقہ حکام سے تفصیلی رپورٹ بھی طلب کر رکھی تھی۔

سربجیت کور کے اس پورے معاملے کا آغاز اپریل 2025 میں ہوا جب وہ بیساکھی کے میلے میں شرکت کے لیے بھارتی پنجاب سے پاکستان آئیں۔ 12 اپریل 2025 کو واہگہ بارڈر کے ذریعے پاکستان میں داخل ہونے والی سربجیت کور یاتریوں کے جتھے سے الگ ہو کر ننکانہ صاحب کے گاؤں فیروز والہ پہنچیں، جہاں انہوں نے 16 اپریل 2025 کو اسلام قبول کرنے کے بعد مقامی نوجوان زوہیب احمد سے نکاح کر لیا۔ ان کے اس اقدام کے بعد بھارتی خاندان اور سکھ برادری کی جانب سے تحفظات کا اظہار کیا گیا، جبکہ پاکستانی حکام نے ابتدائی طور پر ان کے ویزے میں توسیع کی درخواستوں پر غور کیا تھا۔ تاہم، سیکورٹی کلیئرنس اور ویزہ قوانین کی پیچیدگیوں کے باعث ان کے قیام کو قانونی تحفظ نہ مل سکا اور بالآخر نومبر میں ویزہ ختم ہونے کے بعد ان کی ملک بدری کے لیے قانونی کارروائی شروع کی گئی جو اب اپنے منطقی انجام کو پہنچ گئی ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے