نیویارک:(کیو این این ورلڈ) وینزویلا کے صدر نکولس مادورو نے امریکی وفاقی عدالت میں اپنے خلاف عائد منشیات اور دہشت گردی کے تمام الزامات کو یکسر مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ بے گناہ ہیں اور انہیں اغوا کر کے امریکہ لایا گیا ہے۔ مین ہیٹن کی عدالت میں پیشی کے موقع پر مادورو کو قیدیوں کا مخصوص یونیفارم پہنایا گیا تھا اور وہ ہتھکڑیوں میں جکڑے ہوئے تھے، جبکہ عدالتی کارروائی کو سمجھنے کے لیے انہوں نے ترجمے کے ہیڈ فونز لگا رکھے تھے۔ جب جج نے ان سے شناخت پوچھی تو مادورو نے دوٹوک انداز میں کہا کہ "میں وینزویلا کا صدر اور ایک مہذب انسان ہوں، یہاں جن باتوں کا ذکر کیا گیا ہے ان میں سے کسی کا بھی میں قصوروار نہیں ہوں”۔ مادورو کی اہلیہ سیلیا فلوریس نے بھی عدالت میں اپنی بے گناہی پر زور دیا۔ جج نے دلائل سننے کے بعد مقدمے کی سماعت 17 مارچ تک ملتوی کرتے ہوئے دونوں کو دوبارہ پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔ یاد رہے کہ مادورو اور ان کی اہلیہ کو ہفتے کے روز وینزویلا میں ایک امریکی فوجی آپریشن کے دوران حراست میں لیا گیا تھا۔

دوسری جانب اقوامِ متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے وینزویلا میں امریکی فوجی کارروائی کو بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ سلامتی کونسل کے ہنگامی اجلاس میں پڑھے گئے اپنے بیان میں سیکرٹری جنرل نے واضح کیا کہ 3 جنوری کی کارروائی میں بین الاقوامی قوانین کی پاسداری نہیں کی گئی، جس سے خطے میں عدم استحکام پھیلنے کا خدشہ ہے۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ وہ اقوامِ متحدہ کے چارٹر کا احترام کریں اور ریاستوں کی خود مختاری و علاقائی سالمیت کے اصولوں کو ملحوظ خاطر رکھیں۔ انتونیو گوتریس کا کہنا تھا کہ منشیات کی اسمگلنگ اور انسانی حقوق جیسے مسائل کے حل کے لیے بین الاقوامی قانون میں پہلے سے ہی مؤثر ذرائع موجود ہیں، اس لیے طاقت یا دھمکی کا استعمال ناقابلِ قبول ہے۔ انہوں نے وینزویلا کے مستقبل کے فیصلے کے لیے تمام طبقات کے درمیان جامع اور جمہوری مکالمے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے