پاکستانی فلمی تاریخ اور مزاحمتی ادب میں ‘رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے’ محض ایک نغمہ نہیں بلکہ ظلم و جبر کے خلاف انکار کی ایک ایسی علامت ہے جس کی جڑیں ایک حقیقی واقعے میں پیوست ہیں۔ یہ لافانی کلام عوامی شاعر حبیب جالب نے اس وقت تخلیق کیا تھا جب 1965 میں مغربی پاکستان کے اس وقت کے گورنر نواب کالا باغ نے نامور اداکارہ نیلو کو شاہِ ایران کے اعزاز میں منعقدہ ایک تقریب میں رقص کرنے کے لیے مجبور کیا۔ نیلو نے سرکاری دباؤ کے باوجود رقص کرنے سے صاف انکار کر دیا، جس پر انہیں مبینہ طور پر شدید ہراساں کیا گیا اور اسی کرب میں انہوں نے خودکشی کی کوشش بھی کی۔ حبیب جالب نے نیلو کی اس جرأت اور استقامت کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لیے یہ نظم لکھی، جس کا ایک ایک لفظ آمرانہ سوچ کے منہ پر طمانچہ ثابت ہوا۔
بعد ازاں 1969 میں جب نیلو کے شوہر اور مایہ ناز ہدایت کار ریاض شاہد نے فلسطین کی تحریکِ آزادی کے پس منظر میں فلم ‘زرقا’ بنانے کا آغاز کیا، تو اس نظم کو تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ فلم کا حصہ بنایا گیا۔ حبیب جالب نے کلاسیکی شاعر مصحفی ہمدانی کے مصرعے سے متاثر ہو کر اس میں ‘آدابِ شہنشاہی’ کی جگہ ‘آدابِ غلامی’ کا لفظ استعمال کر کے اسے ایک نیا انقلابی رنگ دیا۔ فلم ‘زرقا’ میں جب نیلو پر یہ گیت فلمایا گیا، جہاں وہ بیڑیوں میں جکڑی ہونے کے باوجود رقص کرتی ہیں، تو اس منظر نے پاکستانی سینما میں ایک نئی تاریخ رقم کر دی۔ شہنشاہِ غزل مہدی حسن کی درد بھری اور باوقار آواز نے اس کلام کو ہمیشہ کے لیے امر کر دیا۔ یہ گیت آج بھی دنیا بھر میں آزادی کی تحریکوں اور انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایک طاقتور آواز کے طور پر گونجتا ہے۔ فلم ‘زرقا’ میں نیلو کی اس لازوال کارکردگی نے انہیں نہ صرف شہرت کی بلندیوں پر پہنچا دیا بلکہ یہ فلم پاکستان کی پہلی ڈائمنڈ جوبلی فلم بننے کا اعزاز بھی حاصل کر گئی۔
ریاض شاہد کی ہدایت کاری، حبیب جالب کی انقلابی شاعری، مہدی حسن کی گلوکاری اور نیلو کی بے مثال اداکاری کے اس سنگم نے ایک ایسی شاہکار تخلیق دی جو نصف صدی گزرنے کے باوجود آج بھی اتنی ہی بااثر ہے جتنی اپنی ریلیز کے وقت تھی۔ حبیب جالب کی یہ تاریخی نظم، جو اداکارہ نیلو کی جرأت پر لکھی گئی، اپنے انقلابی مصرعوں کی بدولت آج بھی زندہ ہے۔ اس نظم کے مکمل اشعار درج ذیل ہیں:
تو کہ ناواقفِ آدابِ غلامی ہے ابھی رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے تجھ کو انکار کی عادت ہے تو ہو جائے گی ظلم کا زہر بھی ہنس کر ہی پیا جاتا ہے
اہلِ ثروت کی یہ محفل ہے یہاں رقص کرو اپنے خوابوں کو جلا دو یہاں رقص کرو تم سے مقتل میں بھی رقصِ دمِ بسمل نہ ہوا آؤ اب قصرِ سلاطیں میں یہاں رقص کرو
تیرے قدموں میں ہیں بکھرے ہوئے گوہر کتنے تیری آنکھوں میں ہیں خوابوں کے سمندر کتنے تیرے ماتھے پہ ستارے ہیں چمکتے ہوئے پر تیرے سینے میں ہیں پنہاں ابھی نشتر کتنے
تیرا فن ایک ہی سجدے میں بکھر جائے گا تیرا پندار اسی راہ میں مر جائے گا تو نے پایا ہے جسے خونِ جگر سے جالب وہ ہنر اہلِ سیاست کی نظر ہو جائے گا
تو کہ ناواقفِ آدابِ غلامی ہے ابھی رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے تجھ کو انکار کی عادت ہے تو ہو جائے گی ظلم کا زہر بھی ہنس کر ہی پیا جاتا ہے