کراکاس/واشنگٹن (کیو این این ورلڈ نیوز) امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وینزویلا پر فوجی کارروائی اور اس ملک کو ‘اقتدار کی منتقلی تک امریکہ کے کنٹرول’ میں رکھنے کے متنازع بیان نے عالمی سطح پر شدید ردعمل اور غم و غصے کی لہر کو جنم دیا ہے۔ 3 جنوری 2026 کو امریکی فورسز نے وینزویلا کے دارالحکومت کراکاس میں "آپریشن ایبسولیوٹ ریزالو” کے نام سے ایک بڑے پیمانے پر حملے کے ذریعے صدر نکولس مادورو اور ان کی اہلیہ سلیا فلورس کو گرفتار کر لیا، جسے صدر ٹرمپ نے ‘امریکی فوجی طاقت کا شاندار مظاہرہ’ قرار دیا ہے۔ اس کارروائی کے خلاف خود امریکہ سمیت دنیا کے متعدد ممالک میں احتجاج کا سلسلہ جاری ہے، جہاں مظاہرین نے ‘جنگ نہیں، امن چاہیے’، ‘ٹرمپ کو گرفتار کرو’، ‘خون تیل کے لیے نہیں’ اور ‘وینزویلا کے لیے آزادی’ جیسے پلے کارڈز اور بینرز اٹھا رکھے ہیں۔ فلوریڈا میں ایک ہنگامی پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ مادورو پر ‘نارکو ٹیررزم’ اور منشیات کی سمگلنگ کے الزامات ہیں، جن کی بنیاد پر انہیں نیویارک منتقل کیا جا رہا ہے جہاں ان پر مقدمہ چلایا جائے گا، انہوں نے مزید واضح کیا کہ ‘ہماری تیل کمپنیاں وینزویلا جائیں گی اور ملک کو مستحکم کرنے میں مدد کریں گی’، ان کے اس بیان کو سیاسی و قانونی حلقوں میں بین الاقوامی قوانین کی سنگین خلاف ورزی قرار دیا جا رہا ہے اور اقوام متحدہ سمیت کئی ممالک نے اسے ‘غیر قانونی مداخلت’ اور ایک خودمختار ریاست پر شب خون قرار دیا ہے۔

امریکہ کے اندر احتجاج کی صورتحال انتہائی کشیدہ ہو گئی ہے اور واشنگٹن ڈی سی میں وائٹ ہاؤس کے باہر ہزاروں مظاہرین جمع ہوئے، جہاں انہوں نے ‘وینزویلا پر حملہ بند کرو’، ‘ٹرمپ کا استعماری ایجنڈا نامنظور’ اور ‘امریکی سامراجیت کا خاتمہ’ جیسے نعرے لگائے، مظاہرین کا موقف تھا کہ یہ پوری کارروائی صرف وینزویلا کے تیل کے ذخائر پر قبضے کی ہوس میں کی گئی ہے۔ نیویارک کے ٹائمز اسکوائر میں بھی ایک بڑی ریلی نکالی گئی جہاں بائیں بازو کی تنظیموں اور وینزویلا سے تعلق رکھنے والے شہریوں نے ‘مادورو کی رہائی کرو’ اور ‘ٹرمپ کو گرفتار کرو’ کے مطالبات پر مبنی بینرز لہرائے، جبکہ سیئٹل، کیلیفورنیا اور ٹیکساس میں بھی مظاہرے شروع ہو چکے ہیں جہاں شہریوں کا کہنا ہے کہ یہ فوجی مہم جوئی امریکی ٹیکس دہندگان کے پیسوں کا ضیاع اور ایک آزاد قوم کی خودمختاری پر حملہ ہے۔ یورپ اور لاطینی امریکہ میں بھی ردعمل انتہائی شدید ہے؛ فرانس کے دارالحکومت پیرس میں مظاہرین نے وینزویلا کے جھنڈے لہرائے اور ‘ٹرمپ کا سامراجی چہرہ بے نقاب’ کرنے کے نعرے لگائے، جبکہ یونان کے دارالحکومت ایتھنز میں ہزاروں افراد نے مارچ کرتے ہوئے مادورو کی گرفتاری کو نامنظور قرار دیا۔

اٹلی کے دارالحکومت روم میں شہریوں نے امریکی آپریشن کے خلاف سڑکوں پر احتجاج کیا، جبکہ ارجنٹائن اور کولمبیا میں بھی ‘جنگ نہیں، امن’ اور ‘امریکی مداخلت بند کرو’ کے بینرز کے ساتھ بڑے مظاہرے دیکھے گئے ہیں جہاں انسانی حقوق کی تنظیموں نے اسے عالمی امن کے لیے خطرہ قرار دیا ہے۔ عالمی سطح پر روس اور چین نے امریکہ کو ‘بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی’ کا ذمہ دار ٹھہراتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ اس طرح کی یکطرفہ کارروائیوں سے عالمی نظام درہم برہم ہو جائے گا، جبکہ ایران اور دیگر ممالک میں بھی اس کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ اگرچہ وینزویلا میں مادورو کے بعض مخالفین جشن منا رہے ہیں، لیکن سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ امریکہ کی یہ نوآبادیاتی پالیسی خطے میں ایک نئی اور طویل جنگ کا پیش خیمہ ثابت ہو سکتی ہے، جس کے نتیجے میں ٹرمپ انتظامیہ پر عالمی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے کہ وہ اس کارروائی کی شفاف تحقیقات کرائے اور بین الاقوامی قوانین کا احترام کرے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے