کراچی: (کیو این این ورلڈ)کراچی کے علاقے لانڈھی میں رکشے میں سفر کے دوران ایک 17 سالہ دوشیزہ گولی لگنے سے جاں بحق ہو گئی ہے، جس پر پولیس اور اہلخانہ کے متضاد بیانات سامنے آئے ہیں۔ مقتولہ کی شناخت کومل لائق کے نام سے ہوئی ہے جو لائنز ایریا کی رہائشی تھی اور اپنی والدہ کے ہمراہ لانڈھی میں نانی سے مل کر رکشے میں واپس گھر جا رہی تھی کہ اچانک ایک گولی رکشے کا شیشہ توڑتی ہوئی اس کے سینے میں لگی۔ زخمی لڑکی کو فوری طور پر جناح ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے اس کی موت کی تصدیق کر دی، تاہم ورثاء نے میڈیکو لیگل کارروائی کے بغیر ہی لاش لے جانے کو ترجیح دی۔ مقتولہ کے ماموں ریحان نے الزام عائد کیا ہے کہ ان کی بھانجی پولیس اور ڈاکوؤں کے درمیان فائرنگ کے تبادلے کی زد میں آ کر جاں بحق ہوئی، جبکہ پولیس کا موقف ہے کہ عوامی کالونی پولیس پارٹی بینک ڈکیتی کے ملزمان کا تعاقب کر رہی تھی اور ملزمان کی اندھا دھند فائرنگ کے نتیجے میں یہ افسوسناک واقعہ پیش آیا۔ واقعے کی سنگینی کا نوٹس لیتے ہوئے ایس ایس پی کورنگی فدا حسین نے ڈی ایس پی فائزہ سدھر کی سربراہی میں اعلیٰ سطح کی انکوائری کمیٹی تشکیل دے دی ہے جو شفاف تحقیقات کر کے رپورٹ پیش کرے گی؛ دوسری جانب پولیس نے جوابی کارروائی میں ایک زخمی ملزم مولا بخش کو گرفتار کر کے اسلحہ برآمد کر لیا ہے جبکہ اس کا ساتھی فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا۔
شہر کے ایک اور لرزہ خیز واقعے میں سپر ہائی وے جمالی پل کے قریب سسر نے معمولی جھگڑے پر ڈنڈے مار کر اپنے 32 سالہ داماد رام جی کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے۔ پولیس حکام کے مطابق یہ واقعہ جھگیوں میں پیش آیا جہاں کسی بات پر تلخ کلامی ہونے پر سسر نے اپنے بیٹوں کے ہمراہ مقتول پر لاٹھیوں اور ڈنڈوں سے بدترین تشدد کیا، جس کے نتیجے میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے موقع پر ہی دم توڑ گیا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی پولیس کی بھاری نفری اور ریسکیو حکام نے موقع پر پہنچ کر لاش کو ضروری قانونی کارروائی کے لیے ہسپتال منتقل کیا، جبکہ ملزم سسر اپنے بیٹوں سمیت جائے وقوعہ سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گیا جن کی گرفتاری کے لیے پولیس نے چھاپے مارنے شروع کر دیے ہیں۔ پولیس کا کہنا ہے کہ ابتدائی تفتیش سے یہ گھریلو تنازع کا شاخسانہ معلوم ہوتا ہے، تاہم فرار ملزمان کی گرفتاری کے بعد ہی اصل حقائق سامنے آ سکیں گے۔