سیہون: (کیو این این ورلڈ)ضلع جامشورو کی تحصیل سیہون کے گاؤں جان محمد بھٹی میں پسند کی شادی کے تنازع پر مسلح افراد نے ایک گھر پر دھاوا بول کر تین خواتین کو اغوا کر لیا ہے، جس کے بعد علاقے میں شدید کشیدگی پھیل گئی ہے۔ ایس ایس پی جامشورو ظفر صدیقی کے مطابق یہ لرزہ خیز واقعہ دو برادریوں کے درمیان دیرینہ دشمنی کے نتیجے میں پیش آیا، جس کی بنیادی وجہ کچھ عرصہ قبل ایک نوجوان کی جانب سے مخالف برادری کی لڑکی سے پسند کی شادی کرنا ہے۔ اس شادی کے بعد سے دونوں گروہوں میں تنازع شدت اختیار کر گیا تھا، جس کا بدلہ لینے کے لیے مخالفین نے سوچے سمجھے منصوبے کے تحت گھر میں گھس کر خواتین کو اغوا کیا۔ واقعے کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ بھی ہوا جس کی زد میں آ کر دو افراد زخمی ہوئے ہیں جنہیں طبی امداد کے لیے قریبی ہسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
پولیس نے واقعے کی سنگینی کو مدنظر رکھتے ہوئے فوری ایکشن لیا ہے اور اب تک کی کارروائی میں دو ملزمان کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ دیگر ملوث افراد کی گرفتاری کے لیے پولیس کی بھاری نفری مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔ ایس ایس پی ظفر صدیقی کا کہنا ہے کہ اس وحشیانہ کارروائی میں ملوث 20 سے زائد افراد کے خلاف دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر لیا گیا ہے اور قانون کو ہاتھ میں لینے والوں کے خلاف کسی قسم کی رعایت نہیں برتی جائے گی۔ پولیس حکام نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ مغوی خواتین کی بحفاظت بازیابی اولین ترجیح ہے اور اس مقصد کے لیے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ علاقے میں امن و امان برقرار رکھنے کے لیے پولیس کا گشت بڑھا دیا گیا ہے تاکہ مزید کسی تصادم سے بچا جا سکے۔