اسلام آباد: (کیو این این ورلڈ)فلکیاتی مظاہر سے دلچسپی رکھنے والے شائقین کے لیے نئے سال 2026 کا آغاز ایک دلفریب منظر سے ہو رہا ہے، کیونکہ آج رات سال کا پہلا ’سُپر مون‘ آسمان پر اپنی پوری آب و تاب کے ساتھ جلوہ گر ہو رہا ہے۔ اسپیس اینڈ اپر ایٹموسفیئر ریسرچ کمیشن (سپارکو) کے مطابق پاکستان میں سُپر مون کا باقاعدہ آغاز شام 5 بج کر 51 منٹ پر ہوگا، جس دوران چاند کی روشنی کی شدت قریباً 99.8 فیصد تک ہوگی۔ یہ سُپر مون، جسے روایتی طور پر ’وولف مون‘ (Wolf Moon) کہا جاتا ہے، زمین سے اپنے مدار کے قریب ترین فاصلے یعنی تقریباً 3 لاکھ 62 ہزار 312 کلومیٹر پر ہونے کے باعث عام پورے چاند کے مقابلے میں 6 سے 7 فیصد زیادہ بڑا اور قریباً 10 سے 30 فیصد زیادہ روشن دکھائی دے گا۔ ماہرینِ فلکیات کے مطابق اس کا سب سے خوبصورت اور مسحور کن منظر طلوعِ آفتاب کے فوراً بعد، رات کے ابتدائی حصے میں دیکھا جا سکے گا جب چاند افق کے قریب ہونے کے باعث سائز میں غیر معمولی طور پر بڑا محسوس ہوتا ہے۔
یہ سُپر مون اکتوبر 2025 میں شروع ہونے والے چار مسلسل سُپر مونز کے سلسلے کی آخری کڑی ہے، جس کے بعد اس سال کا اگلا سُپر مون نومبر 2026 میں متوقع ہے۔ سائنسی طور پر سُپر مون اس وقت رونما ہوتا ہے جب چاند اپنے بیضوی مدار میں زمین کے قریب ترین نقطے (Perigee) پر پہنچتا ہے، جس کے نتیجے میں یہ زمین پر موجود ناظرین کو سائز میں بڑا اور روشنی میں زیادہ چمکدار نظر آتا ہے۔ رواں سال کا پہلا چاند جہاں اپنی خوبصورتی کے باعث توجہ کا مرکز ہے، وہیں یہ زمین کے سورج کے قریب ترین ہونے کے نایاب وقت (Perihelion) کے ساتھ بھی ہم آہنگ ہو رہا ہے، جو کہ 1912 کے بعد ایک نادر فلکیاتی واقعہ ہے۔ شائقینِ فلکیات 3 اور 4 جنوری کی درمیانی رات بھر اس دلکش منظر کا مشاہدہ کر سکتے ہیں، جس کے لیے کسی خاص سائنسی آلے کی ضرورت نہیں بلکہ اسے کھلی آنکھ سے باآسانی دیکھا جا سکے گا۔