کراچی (کیو این این ورلڈ)شہرِ قائد کے علاقے مائی کلاچی روڈ پھاٹک کے قریب ایک خشک مین ہول سے دو خواتین، ایک مرد اور ایک بچے کی مسخ شدہ لاشیں ملنے کے واقعے نے پورے شہر میں سنسنی پھیلا دی ہے، جس پر پولیس اور متعلقہ اداروں نے ہنگامی بنیادوں پر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔ پولیس اور ایدھی حکام کی جانب سے فراہم کردہ تفصیلات کے مطابق، ملزمان نے اس لرزہ خیز واردات کے بعد لاشوں کو چھپانے کے لیے انہیں ایک گہرے مین ہول میں ڈالا، جس کے اوپر کمبل بچھایا گیا اور پھر بھاری پتھر رکھ دیے گئے تاکہ کسی کو شک نہ ہو سکے۔ ابتدائی طبی معائنے اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق، چاروں مقتولین کے جسموں پر بدترین تشدد کے واضح نشانات پائے گئے ہیں اور ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انہیں کسی بھاری چیز کے پے در پے وار کر کے بے دردی سے قتل کیا گیا۔ پولیس ذرائع کا کہنا ہے کہ لاشیں تقریباً 10 دن سے زائد پرانی ہیں، جس کے باعث ان کی شناخت میں شدید دشواری کا سامنا ہے، تاہم تمام مقتولین کی لاشوں کو پوسٹ مارٹم کے بعد ایدھی سرد خانے منتقل کر دیا گیا ہے۔
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے واقعے کا سخت نوٹس لیتے ہوئے آئی جی سندھ اور متعلقہ حکام سے فوری رپورٹ طلب کر لی ہے اور ہدایت کی ہے کہ واقعے کے تمام پہلوؤں کا باریک بینی سے جائزہ لے کر سفاک ملزمان کا تعین کیا جائے۔ انہوں نے انسانی جانوں کے اس ضیاع پر گہرے رنج و غم کا اظہار کرتے ہوئے واضح کیا کہ شہریوں کے جان و مال کا تحفظ حکومت کی اولین ذمہ داری ہے اور اس لرزہ خیز واردات میں ملوث عناصر کو کسی صورت معاف نہیں کیا جائے گا۔ دوسری جانب صوبائی وزیر داخلہ ضیا الحسن لنجار نے بھی ایس ایس پی کیماڑی سے واقعے کی تفصیلی رپورٹ طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ جائے وقوعہ سے حاصل شدہ تمام شواہد کا فرانزک تجزیہ کرایا جائے اور قریبی نصب سی سی ٹی وی کیمروں کی فوٹیجز کی مدد سے ملزمان تک پہنچنے کی ہر ممکن کوشش کی جائے۔
پولیس کی ابتدائی تحقیقات کے مطابق، مقتولین میں ایک بزرگ خاتون اور ایک کم سن لڑکا بھی شامل ہے، جو اس بات کی جانب اشارہ کرتا ہے کہ یہ کسی ایک ہی خاندان کے افراد ہو سکتے ہیں جنہیں اغوا کے بعد بے رحمی سے موت کے گھاٹ اتارا گیا ہے۔ پولیس کا کہنا ہے کہ قتل کے پسِ پردہ محرکات، وجوہات اور عوامل کا تعین کرنے کے لیے تفتیش کا دائرہ وسیع کر دیا گیا ہے اور مختلف مشتبہ افراد سے پوچھ گچھ بھی کی جا رہی ہے۔ وزیر داخلہ نے اس عزم کا اعادہ کیا ہے کہ متاثرہ خاندان کو انصاف کی فراہمی یقینی بنانے کے لیے تمام وسائل بروئے کار لائے جائیں گے اور شفاف و غیر جانبدارانہ تفتیش کے ذریعے ملزمان کو قانون کے مطابق کیفرِ کردار تک پہنچایا جائے گا۔