پشاور: (کیو این این ورلڈ)خیبرپختونخوا کے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے صوبے کی ترقی اور وفاق کے ساتھ جاری مالی تنازعات کے حوالے سے اہم بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ پشاور کو جدید خطوط پر استوار کیا جائے گا، تاہم یہاں لاہور جیسی ترقی نہیں لائی جائے گی جہاں جلسے جلوسوں اور سیاسی آزادیوں پر پابندی ہو۔ پشاور میں میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے وفاقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا اور انکشاف کیا کہ وفاق نے ضم شدہ اضلاع کے لیے مختص 568 ارب روپے کے بقایا جات تاحال ادا نہیں کیے، جبکہ گزشتہ سات سالوں کے دوران 1000 ارب روپے کے واجب الادا فنڈز میں سے مرکز نے صرف 168 ارب روپے جاری کیے ہیں۔ وزیراعلیٰ نے واضح کیا کہ مرکز کے ذمے اب بھی 700 ارب روپے سے زائد رقم باقی ہے، جسے موصول ہونے کے بعد ترتیب وار طریقے سے ضم شدہ اضلاع کی فلاح و بہبود پر خرچ کیا جائے گا۔ انہوں نے کرپشن کے حوالے سے اپنی حکومت کی ‘زیرو ٹالرنس’ پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ کے بنیادی اصول شفافیت، میرٹ اور مکمل طور پر کرپشن کا خاتمہ ہیں۔

امن و امان کی صورتحال کو اپنی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج قرار دیتے ہوئے سہیل آفریدی نے کہا کہ تیراہ سمیت دیگر متاثرہ علاقوں سے نقل مکانی کرنے والے شہریوں کو معاوضوں کی ادائیگی صوبائی حکومت خود کرے گی۔ انہوں نے اس تاثر کو مسترد کر دیا کہ صوبے کے سکولوں اور ہسپتالوں میں سہولیات کا فقدان ہے، ان کا کہنا تھا کہ اگر وفاق صوبے کے جائز بقایا جات اور بجلی کے خالص منافع کی رقوم ادا کر دے تو سہولیات کی صورتحال میں انقلابی بہتری لائی جا سکتی ہے۔ وزیراعلیٰ نے بجلی کے مسئلے کے مستقل حل کے لیے پیسکو (PESCO) کو صوبائی حکومت کے زیرِ انتظام لانے کی تجویز پر غور کرنے کا بھی اشارہ دیا تاکہ ٹرانسمیشن لائنز اور واجب الادا رقوم کے معاملات کو مقامی سطح پر بہتر طور پر حل کیا جا سکے۔ ان کا کہنا تھا کہ مخالفین گزشتہ 75 سالوں کی محرومیوں کا بوجھ بھی موجودہ حکومت پر ڈال رہے ہیں جو کہ سراسر زیادتی ہے۔

اپنے حالیہ دورہ لاہور کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعلیٰ سہیل آفریدی نے اعتراف کیا کہ دورے کے دوران کچھ نازیبا زبان کا استعمال ہوا جو کہ دراصل مخالفین کے عمل کا ردعمل تھا، تاہم انہوں نے اس پر معذرت کر لی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ دورے کا مقصد عوام میں بیداری کی لہر پیدا کرنا تھا، لیکن پشاور میں ہم ایسی ترقی کے حامی ہیں جہاں جمہوری حقوق سلب نہ ہوں۔ انتظامی امور پر روشنی ڈالتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ تمام سابقہ وزراء اور حکومتی ٹیم کے ارکان سے سرکاری گاڑیاں واپس لے لی گئی ہیں اور دفاتر کے تالے کھلوا دیے گئے ہیں۔ کابینہ میں توسیع کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ جن ارکان پر الزامات تھے ان کا شفاف ہونا ضروری ہے، جلد ہی کابینہ میں نئے نام شامل کیے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ نے عزم ظاہر کیا کہ وہ اپنی حکومت کی بہتر گورننس پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں اور جلد ہی اپنی 100 دنوں کی کارکردگی رپورٹ عوام کے سامنے پیش کریں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے