الیکشن سے قبل فیصلہ: پی پی 289 ڈیرہ غازی خان میں اسامہ عبدالکریم بلا مقابلہ کامیاب
عباد سدوزئی نے الیکشن رولز کی سکیشن 65تحت ریٹائرمنٹ لے لی تھی

ڈیرہ غازی خان (رپورٹ: سید ریاض جاذب)صوبائی اسمبلی کے حلقہ PP-289 (ڈیرہ غازی خان-IV) کے ضمنی انتخابات میں پاکستان مسلم لیگ ن کے امیدوار اسامہ عبدالکریم بلا مقابلہ کامیاب قرار دیے گئے ہیں، یہ اہم فیصلہ اس وقت سامنے آیا جب ان کے مدمقابل مسلم لیگ جناح کے امیدوار محمد عباد سدوزئی نے الیکشن کمیشن آف پاکستان کے قوانین کے مطابق سیکشن 65 کے تحت اپنی نامزدگی واپس لے کر ریٹائرمنٹ اختیار کر لی، جس کے نتیجے میں انتخابی میدان میں صرف ایک امیدوار باقی رہ جانے پر ریٹرننگ آفیسر نے اسامہ عبدالکریم کی کامیابی کا اعلان کر دیا۔ پی پی-289 میں ضمنی انتخابات 25 جنوری 2026 کو شیڈول تھے اور کاغذات نامزدگی جمع کرانے کے بعد کل گیارہ امیدواروں نے اپنے کاغذات داخل کیے تھے، تاہم کاغذات نامزدگی واپس لینے کی آخری تاریخ پر نو امیدواروں نے دستبرداری اختیار کر لی تھی جس کے بعد یکم جنوری 2026 کو ریٹرننگ آفیسر نے فارم نمبر 33 جاری کیا جس میں صرف دو امیدواروں اسامہ عبدالکریم اور محمد عباد خان سدوزئی کے نام شامل تھے۔ فارم 33 جاری ہونے کے بعد محمد عباد خان سدوزئی نے الیکشن ایکٹ 2017 کی سیکشن 65 کے تحت ریٹائرمنٹ کا نوٹس جمع کرایا جس سے حلقے میں مقابلہ ختم ہو گیا اور ریٹرننگ آفیسر نے فارم-34 تیار کرنے کی کاروائی شروع کردی ۔اسامہ عبدالکریم کو بلا مقابلہ منتخب قرار دے دیا گیا جبکہ اس فیصلے کی حتمی منظوری الیکشن کمیشن آف پاکستان نے دینی ہے۔
اسامہ عبدالکریم مسلم لیگ ن کے سینیٹر حافظ عبدالکریم کے بیٹے اور مسلم لیگ ن یوتھ ونگ کے فعال رہنما ہیں جو ڈیرہ غازی خان کے مقامی مسائل سے بخوبی واقف ہونے کے ساتھ ساتھ عوامی خدمت کے جذبے سے سرشار ہیں، ان کی کامیابی کو پارٹی قیادت اور کارکنوں نے خوش آئند قرار دیتے ہوئے اسے مسلم لیگ ن کی مقبولیت کی عکاسی قرار دیا ہے۔ الیکشن رولز کے مطابق الیکشن ایکٹ 2017 کی سیکشن 65 کے تحت کوئی بھی امیدوار ریٹائرڈ ہوسکتا ہے واپسی کی تاریخ سے قبل تحریری نوٹس دے کر اپنی امیدوار ی واپس لے سکتا ہے الیکشن ایکٹ کی سیکشن 72 کے تحت ایسا ممکن ہے جس کے مطابق مقابلہ کرنے والا امیدوار پولنگ سے چار دن پہلے تک ریٹائرمنٹ کا نوٹس دے سکتا ہے اور سیکشن 72(4) کے تحت یہ ریٹائرمنٹ سیکشن 65 کے تحت واپسی کے مترادف ہی سمجھی جاتی ہے۔ اسی طرح سیکشن 71 کے تحت اگر واپسی یا ریٹائرمنٹ کے بعد صرف ایک امیدوار باقی رہے تو ریٹرننگ آفیسر اسے بلا مقابلہ منتخب قرار دیتا ہے اور یہ فیصلہ الیکشن کمیشن کی منظوری کے بعد حتمی ہو جاتا ہے، یہ پورا عمل پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 218(3) کے تحت الیکشن کمیشن کی ذمہ داری ہے جو آزادانہ اور شفاف انتخابات کو یقینی بناتا ہے۔