ہرات(کیو این این ورلڈ) افغان طالبان نے جانداروں کی تصاویر شائع اور نشر کرنے پر مکمل پابندی عائد کر دی

افغانستان کے مغربی صوبے ہرات میں طالبان حکام نے جانداروں کی تصاویر شائع کرنے اور ویڈیو مواد نشر کرنے پر عائد پابندی پر سختی سے عمل درآمد کی نئی ہدایات جاری کر دی ہیں۔ افغان میڈیا کے مطابق 31 دسمبر 2025 کو وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے صوبائی سربراہ اور محکمہ اطلاعات و ثقافت کے ذمہ داروں نے مقامی میڈیا مالکان اور سوشل میڈیا مواد تخلیق کرنے والے یوٹیوبرز سے ملاقات کی جس میں واضح کیا گیا کہ اب سے کسی بھی جاندار کی تصویر یا ویڈیو بنانا اور اسے عام کرنا ممنوع ہوگا۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کے احکامات کی روشنی میں کیا گیا ہے، جس کے تحت خبروں، اشتہارات اور دیگر پروگراموں میں انسانی چہروں یا جانوروں کی نمائش نہیں کی جا سکے گی۔ اس پابندی کا دائرہ کار صحافیوں، نیوز اینکرز اور انٹرویو دینے والے افراد تک پھیلا دیا گیا ہے تاکہ صوبے بھر میں بصری میڈیا کے حوالے سے سخت ضوابط کو نافذ کیا جا سکے۔

طالبان حکام نے میڈیا ہاؤسز کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی نشریات میں چہروں کی نمائش سے مکمل گریز کریں اور اس قانون کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ واضح رہے کہ ہرات سے قبل افغانستان کے تقریباً 16 دیگر صوبوں میں بھی جانداروں کی تصویر کشی پر پابندی لگائی جا چکی ہے، جس کے لیے طالبان کی وزارتِ امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے قانون کے آرٹیکل 17 کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ اگرچہ مقامی میڈیا اور عالمی صحافتی تنظیموں نے اس اقدام پر تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم طالبان انتظامیہ نے اس حوالے سے کسی بھی قسم کے لچک دکھانے سے انکار کیا ہے اور اسے شریعت کے مطابق قرار دیا ہے۔ اس حکم کے بعد ہرات میں کام کرنے والے ٹی وی چینلز اور ڈیجیٹل پلیٹ فارمز کو اپنی نشریاتی پالیسیوں میں بڑی تبدیلیاں کرنا ہوں گی جس سے افغان صحافت کے مستقبل پر گہرے اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے