سوئٹزرلینڈ کے مشہور زمانہ اِسکی ریزورٹ "کرانس مونٹانا” کے ایک بار میں زوردار دھماکے اور اس کے نتیجے میں لگنے والی آگ کے باعث ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 40 تک پہنچ گئی ہے جبکہ 100 سے زائد افراد زخمی بتائے جاتے ہیں۔ غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق دھماکا بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب ڈیڑھ بجے اس وقت ہوا جب سیاحت کے لیے معروف اس ریزورٹ میں نیو ایئر نائٹ منانے کے لیے لوگوں کی ایک بڑی تعداد موجود تھی۔ عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ دھماکا اتنا شدید تھا کہ اس کے فوراً بعد بار میں ہولناک آگ بھڑک اٹھی جس نے وہاں موجود افراد کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ اطالوی وزارت خارجہ نے سوئس حکام کے حوالے سے تصدیق کی ہے کہ اب تک تقریباً 40 افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں، جبکہ سوئس پولیس کمشنر کا کہنا ہے کہ زخمی ہونے والے 100 افراد میں سے بیشتر کی حالت تشویشناک ہے جس کے باعث ہلاکتوں میں مزید اضافے کا خدشہ ہے۔

سوئس پولیس حکام نے ابتدائی تحقیقات کے حوالے سے غیر ملکی خبر ایجنسی کو بتایا کہ واقعے کے متاثرین میں مقامی لوگوں کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سیاح بھی شامل ہیں، تاہم اب تک کی تفتیش کے مطابق اس واقعے کو دہشت گردانہ حملہ تصور نہیں کیا جا رہا بلکہ اسے ایک حادثہ قرار دیا جا رہا ہے۔ دھماکے کی اصل وجوہات جاننے کے لیے تحقیقاتی ٹیمیں جائے وقوعہ سے شواہد اکٹھے کر رہی ہیں، جبکہ امدادی ٹیموں نے رات بھر کارروائی کرتے ہوئے زخمیوں کو قریبی ہسپتالوں میں منتقل کیا۔ حکام کا کہنا ہے کہ بار میں آگ لگنے کی وجہ سے زخمیوں کی بڑی تعداد جھلسنے کے باعث شدید تکلیف میں ہے جنہیں بہترین طبی امداد فراہم کی جا رہی ہے۔ پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر ریزورٹ کی جانب جانے والے راستے عارضی طور پر بند کر دیے ہیں تاکہ تحقیقاتی عمل میں کوئی رکاوٹ پیش نہ آئے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے