اوچ شریف(نامہ نگارحبیب خان) اینٹوں کے بھٹوں کا دھواں اور پلاسٹک کی زہریلی چادر میں شہر گھر گیا، شہری زندگی خطرے میں پڑگئی

اوچ شریف اور اس کے گرد و نواح میں جدید زِگ زیگ ٹیکنالوجی پر منتقل نہ ہونے والے قدیم طرز کے بھٹہ جات اور ممنوعہ پلاسٹک بیگز کا بے دریغ استعمال ماحولیاتی آلودگی کا سنگین سبب بن گیا ہے، جس نے شہری زندگی کو شدید خطرات سے دوچار کر دیا ہے۔ غیر معیاری بھٹوں سے خارج ہونے والا زہریلا دھواں، راکھ اور مضر گیسیں نہ صرف فضا کو آلودہ کر رہی ہیں بلکہ اس کے نتیجے میں شہریوں بالخصوص بچوں اور بزرگوں میں سانس، آنکھوں اور جلد کے امراض میں تشویشناک اضافہ ہو رہا ہے۔ ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر ان بھٹہ جات کو فوری طور پر حکومتی پالیسی کے مطابق جدید ٹیکنالوجی پر منتقل نہ کیا گیا تو پورا علاقہ مستقل سموگ اور سنگین فضائی بحران کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔

ماحولیاتی آلودگی کی دوسری بڑی وجہ مارکیٹوں اور رہائشی علاقوں میں 75 مائیکرون سے کم موٹائی والے پلاسٹک شاپنگ بیگز کا مسلسل استعمال ہے، جس نے شہر کے نکاسیٔ آب کے نظام کو مفلوج کر کے رکھ دیا ہے۔ ان بیگز کے باعث نالیاں بند ہونے سے جگہ جگہ گندگی اور تعفن پھیل رہا ہے جو وبائی امراض کو جنم دے رہا ہے۔ اگرچہ انتظامی سطح پر منعقدہ حالیہ اجلاسوں میں قوانین کی خلاف ورزی کرنے والے عناصر کے خلاف سخت کارروائیوں کے فیصلے کیے گئے ہیں، تاہم عوامی و سماجی حلقوں نے مطالبہ کیا ہے کہ ان اقدامات کو صرف اعلانات تک محدود رکھنے کے بجائے عملی طور پر نافذ کیا جائے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ اوچ شریف کو سموگ اور آلودگی سے محفوظ رکھنے کے لیے انتظامیہ کی سخت گرفت اور عوامی شعور کا بیدار ہونا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے