واشنگٹن (کیو این این ورلڈ): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے غیر قانونی طور پر ملک میں داخل ہونے والے بھارتی شہریوں کے خلاف گھیرا تنگ کرتے ہوئے انہیں سخت فوجداری سزاؤں اور فوری ملک بدری کی وارننگ جاری کر دی ہے۔ بھارت میں قائم امریکی سفارت خانے نے ایک بیان میں واضح کیا ہے کہ غیر قانونی ہجرت کے خلاف کریک ڈاؤن موجودہ حکومت کی اولین ترجیح ہے اور امریکی قوانین کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سنگین قانونی نتائج بھگتنا ہوں گے۔ امریکی محکمہ خارجہ کے اعداد و شمار کے مطابق جنوری 2025 سے اب تک 80 ہزار سے زائد نان امیگرنٹ ویزے منسوخ کیے جا چکے ہیں، جن میں شراب پی کر گاڑی چلانا، چوری اور تشدد جیسے جرائم میں ملوث افراد شامل ہیں۔ اس کے علاوہ اگست میں 6 ہزار سے زائد بھارتی طلبہ کے ویزے بھی قیام کی مدت ختم ہونے اور دیگر قواعد کی خلاف ورزی پر منسوخ کر دیے گئے۔

یہ سخت پالیسی ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب امریکہ اور بھارت کے تعلقات میں تجارتی ٹیرف اور علاقائی صورتحال کے باعث تناؤ پایا جاتا ہے۔ صدر ٹرمپ نے جہاں بھارتی مصنوعات پر 50 فیصد ٹیرف لگانے کا اشارہ دیا ہے، وہیں غیر قانونی طور پر مقیم بھارتیوں کی ڈی پورٹیشن کے لیے فوجی طیاروں کا استعمال بھی شروع کر دیا گیا ہے، جیسا کہ فروری میں 104 بھارتیوں کو امرتسر منتقل کیا گیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکہ نے پاکستان، چین یا دیگر ممالک کے لیے ایسی عوامی وارننگ جاری نہیں کی، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ بھارتی شہری اس وقت ٹرمپ انتظامیہ کے براہِ راست نشانے پر ہیں۔ مزید برآں، H-1B ویزا فیسوں میں اضافے نے بھارتی آئی ٹی ماہرین کے لیے بھی امریکہ میں قیام اور روزگار کو مشکل بنا دیا ہے، جس پر بھارتی حکومت نے شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے