راولپنڈی (کیو این این ورلڈ): راولپنڈی پولیس نے اڈیالہ جیل کے قریب احتجاجی دھرنے پر بیٹھی بانی پی ٹی آئی عمران خان کی بہنوں علیمہ خان، عظمیٰ خان اور نورین خان کو حراست میں لینے کے بعد چکری انٹرچینج پر لے جا کر رہا کر دیا ہے۔ تفصیلات کے مطابق بانی پی ٹی آئی کی بہنیں گزشتہ روز عمران خان سے ملاقات کے لیے اڈیالہ جیل پہنچی تھیں، تاہم انتظامیہ کی جانب سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر انہوں نے احتجاجاً فیکٹری ناکے پر دھرنا دے دیا، جس میں تحریک انصاف کے دیگر رہنما اور کارکنان بھی شامل ہو گئے۔ رات گئے پولیس نے کارروائی کرتے ہوئے دھرنے کے شرکاء کو منتشر کیا اور علیمہ خان سمیت دیگر خواتین کو گرفتار کر لیا، تاہم کچھ ہی دیر بعد انہیں چکری انٹرچینج پر رہا کر دیا گیا جہاں سے وہ اپنے گھروں کو روانہ ہو گئیں۔
گرفتاری سے قبل میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے علیمہ خان نے سیاسی صورتحال پر سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ مذاکرات کی پیش کش تحریک تحفظِ آئین کی جانب سے نہیں بلکہ خود وزیراعظم کی طرف سے آئی ہے، جبکہ بانی پی ٹی آئی نے واضح طور پر عوام کو سڑکوں پر نکلنے کی کال دی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ بہت جلد ایک بڑی عوامی تحریک سڑکوں پر ہوگی کیونکہ لوگ اب خاموش نہیں بیٹھیں گے۔ علیمہ خان کا مزید کہنا تھا کہ وہ عمران خان کو کسی صورت اکیلا نہیں چھوڑیں گی کیونکہ وہ جیل میں اپنی ذات کے لیے نہیں بلکہ قوم کے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ انہوں نے حکومت پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ حکمران طبقہ عوامی ردعمل سے خوفزدہ ہے، یہی وجہ ہے کہ سہیل آفریدی کے دورے کے موقع پر پورے لاہور کو بند کر دیا گیا تاکہ لوگ جمع نہ ہو سکیں۔