ڈیرہ غازی خان(خصوصی رپورٹ ریاض جاذب)پنجاب کے سرحدی ضلع ڈیرہ غازی خان میں پولیس نے خیبر پختونخوا سے ملحقہ علاقوں میں فرنٹ لائن فورس کا کردار ادا کرتے ہوئے گزشتہ ڈیڑھ سال کے دوران دہشت گردوں کے 33 بڑے حملے ناکام بنا دیے، جن کے دوران 20 خوارج دہشت گرد ہلاک ہوئے۔
ترجمان پنجاب پولیس کے مطابق ڈیرہ غازی خان رینج، خصوصاً لکھانی، جھنگی اور وہوا کی سرحدی چیک پوسٹوں پر فتنہ الخوارج (ٹی ٹی پی سے منسلک گروپس) کی جانب سے بارہا دراندازی کی کوششیں کی گئیں، تاہم پولیس کی مستعدی، بہادری اور تھرمل امیجنگ کیمروں سمیت جدید ٹیکنالوجی کے استعمال کے باعث تمام حملے بروقت ناکام بنا دیے گئے۔
ان کارروائیوں کے دوران دہشت گردوں نے راکٹ لانچرز، دستی بم اور بھاری اسلحہ استعمال کیا، تاہم پولیس، ایلیٹ فورس اور رینجرز کی مشترکہ اور مؤثر جوابی کارروائی کے نتیجے میں دہشت گردوں کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور وہ فرار ہونے پر مجبور ہو گئے۔
آئی جی پنجاب ڈاکٹر عثمان انور نے ڈیرہ غازی خان پولیس کی کارکردگی کو سراہتے ہوئے کہا کہ”پنجاب پولیس خوارج دہشت گردوں کے خلاف سیسہ پلائی دیوار ہے۔ سرحدی چیک پوسٹس پر تعینات جوانوں کی جرات، پیشہ ورانہ مہارت اور قربانیوں کے باعث دہشت گردوں کو پنجاب میں داخل ہونے سے روکا جا رہا ہے۔”انہوں نے مزید کہا کہ حالیہ مہینوں میں متعدد دہشت گرد حملوں کو بروقت انٹیلی جنس اور مؤثر حکمت عملی کے تحت ناکام بنایا گیا ہے۔
پولیس حکام کے مطابق سرحدی علاقوں میں سَرچ اینڈ کومبنگ آپریشنز تاحال جاری ہیں، جبکہ پنجاب حکومت کی جانب سے فراہم کردہ جدید ہتھیاروں اور آلات سے پولیس فورس مکمل طور پر لیس ہے۔ ڈی پی او ڈیرہ غازی خان نے مختلف چیک پوسٹوں کا دورہ کر کے جوانوں کا مورال بلند کیا، ان کی کارکردگی کو سراہا اور اہلکاروں کو شاباش دی۔پولیس نے عوام سے اپیل کی ہے کہ کسی بھی مشکوک سرگرمی یا فرد کی فوری اطلاع قریبی پولیس اسٹیشن یا ہیلپ لائن پر دیں۔
سکیورٹی ماہرین کے مطابق ڈیرہ غازی خان کی سرحدی پٹی دہشت گردی کے حوالے سے حساس سمجھی جاتی ہے، تاہم پولیس کی مسلسل نگرانی، قربانیوں اور پیشہ ورانہ تیاری کے باعث پنجاب کو محفوظ رکھا جا رہا ہے۔ ان کامیاب کارروائیوں پر وزیر داخلہ پنجاب نے بھی پولیس ٹیم کو خراجِ تحسین پیش کیا ہے۔
یہ کامیابیاں قومی سلامتی کے تحفظ کے لیے پنجاب پولیس کی لازوال قربانیوں اور عزم کا واضح ثبوت ہیں۔