اسلام آباد (کیو این این ورلڈ) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے انکشاف کیا ہے کہ پاکستان فری لانسنگ کی عالمی مارکیٹ میں تیسرے بڑے ملک کے طور پر ابھرا ہے اور ملک کی کثیر نوجوان آبادی سب سے بڑی معاشی قوت بننے کی بھرپور صلاحیت رکھتی ہے۔ اسلام آباد میں ایک پروقار تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان کی آبادی کا بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے، اسی لیے حکومت کی اولین ترجیح ان نوجوانوں کو جدید ہنرمندی اور تکنیکی تربیت فراہم کرنا ہے تاکہ وہ عالمی سطح پر اپنا لوہا منوا سکیں۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کا اصل چیلنج نتائج کے حصول کے حوالے سے نظم و ضبط کی کمی ہے، جس پر قابو پا کر ہم 24 کروڑ کی قوم کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ملک میں سالانہ شرح نمو 2.5 فیصد ہے، لیکن غربت کے خاتمے اور پائیدار معاشی استحکام کے لیے ہمیں مزید ٹھوس اور مستقل بہتری کی جانب قدم بڑھانے ہوں گے۔

وزیر خزانہ نے ‘سوشل امپیکٹ فنانسنگ فریم ورک’ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ یہ محض ایک پالیسی بیان نہیں بلکہ ایک مکمل مالیاتی ڈھانچہ ہے جسے مشترکہ طور پر تشکیل دیا گیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ پی ایس آئی بی (PSIB) کے تحت خاص طور پر نوجوان خواتین کو بااختیار بنانے پر توجہ دی جا رہی ہے تاکہ وہ معاشی عمل میں برابر کی شریک بن سکیں۔ محمد اورنگزیب نے نیوٹیک اور اسٹیر کوڈیل ٹیم کو اس تاریخی فریم ورک کے اجراء پر مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ آئندہ مراحل میں نتائج پر مبنی فنڈنگ کو فروغ دیا جائے گا اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ ماڈل کے ذریعے نوجوانوں کے لیے روزگار کے وسیع مواقع پیدا کیے جائیں گے۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اگر نوجوانوں کی درست سمت میں رہنمائی کی جائے تو وہ پاکستان کی تقدیر بدلنے والے معاشی ستون ثابت ہوں گے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے