نئی دہلی (ویب ڈیسک) بھارت جو عالمی سطح پر خود کو ایک ذمہ دار ریاست کے طور پر پیش کرنے کی کوشش کرتا ہے، اس کے شہریوں کی بڑی تعداد میں ملک بدری نے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے۔ عالمی خبر رساں اداروں کے مطابق سعودی عرب نے مجرمانہ سرگرمیوں اور ملکی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں میں ملوث ہزاروں بھارتی شہریوں کو حراست میں لینے کے بعد ملک بدر کر دیا ہے۔ تازہ سرکاری اعداد و شمار میں انکشاف ہوا ہے کہ سعودی عرب نے گزشتہ پانچ برسوں میں ہزاروں بھارتی شہریوں کو ملک بدر کیا ہے، جس کی شرح کسی بھی دوسرے ملک کے مقابلے میں نمایاں طور پر زیادہ ہے۔ اس حوالے سے خود بھارتی وزارتِ خارجہ نے پارلیمنٹ میں ایک چشم کشا رپورٹ پیش کی ہے، جس میں بتایا گیا ہے کہ صرف سعودی عرب سے 2021 میں 8 ہزار 887، 2022 میں 10 ہزار 277، 2023 میں 11 ہزار 486، 2024 میں 9 ہزار 206 اور رواں برس اب تک 7 ہزار 19 بھارتیوں کو ملک بدر کیا جا چکا ہے۔

یہ اعداد و شمار اس تلخ حقیقت کی نشاندہی کرتے ہیں کہ بھارتی شہری بار بار ویزا کی مدت ختم ہونے کے باوجود قیام، غیر قانونی ملازمت، لیبر قوانین کی خلاف ورزی، آجر سے فرار اور بعض اوقات فوجداری مقدمات میں ملوث پائے گئے۔ بھارتی وزیر مملکت برائے خارجہ امور کرتی وردھن سنگھ نے اعتراف کیا ہے کہ ملک بدری کی زیادہ تر وجوہات قانونی حیثیت کے بغیر کام کرنا اور رہائشی اجازت ناموں کی خلاف ورزی ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ صورتحال نہ صرف میزبان ممالک کے قوانین کی توہین ہے بلکہ بھارت کی عالمی ساکھ کے لیے بھی شدید نقصان دہ ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بھارت میں بڑھتی ہوئی بے روزگاری، غیر ہنر مند لیبر کی بیرونِ ملک منتقلی اور قانونی آگاہی کی کمی اس مسئلے کی بنیادی وجوہات ہیں۔ تاہم یہ صورتحال بھارت کے لیے ایک سنجیدہ لمحہ فکریہ ہے کہ محض عالمی دعوؤں سے نہیں بلکہ عملی نظم و ضبط اور شہری ذمہ داری سے ہی کسی ملک کا وقار قائم ہوتا ہے۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے