چین نے پاکستان کو پانچویں نسل کے جدید J-35A اسٹیلتھ لڑاکا طیارے فراہم کرنے کے عمل کو تیز کر دیا ہے، جس سے پاکستان کی فضائی طاقت میں انقلاب آ سکتا ہے۔یہ اقدام دونوں ممالک کے درمیان دفاعی تعاون کو نئی بلندیوں تک پہنچا رہا ہے اور جنوبی ایشیا میں اسٹریٹجک توازن متاثر کر سکتا ہے۔پاکستانی پائلٹس کی بیجنگ میں تربیت اور CPEC میں سرمایہ کاری کے اقدامات اس پیشرفت کو اقتصادی اور فوجی دونوں سطحوں پر مضبوط کر رہے ہیں۔
خصوصی رپورٹ۔
چین نے پاکستان کو پانچویں نسل کے جدید J-35A اسٹیلتھ لڑاکا طیاروں کی فراہمی کے عمل کو غیر معمولی طور پر تیز کر دیا ہے، جو دونوں ممالک کے دفاعی تعاون کو نئی بلندیوں پر لے جا رہا ہے اور جنوبی ایشیا میں فضائی طاقت کے توازن کو متاثر کر سکتا ہے۔ امریکی محکمہ دفاع (پینٹاگون) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق، بیجنگ نے پاکستان کو ابتدائی طور پر 40 J-35A طیارے فراہم کیے ہیں، جو چین کی جانب سے اس سطح کی جدید فوجی ٹیکنالوجی کی پہلی بڑی برآمد ہے۔
اعلیٰ سفارتی ذرائع کے مطابق، یہ اقدام حالیہ بھارت-پاکستان کشیدگی کے پیش نظر پاکستان کے لیے چین کی طرف سے ایک قسم کا “اسٹریٹجک انعام” سمجھا جا رہا ہے۔ چین نے پاکستان کو J-35A طیاروں پر 50 فیصد تک رعایت اور سازگار ادائیگی کے آپشنز پیش کیے ہیں، جسے خطے میں پاکستان ایئر فورس کی کارکردگی کا اعتراف تصور کیا جا رہا ہے۔

ابتدائی طور پر معاہدے کے تحت رواں سال پہلے 30 طیاروں کی فراہمی متوقع تھی، لیکن اب یہ عمل مزید تیز کر دیا گیا ہے۔ پاکستان کی جانب سے 40 J-35A اسٹیلتھ فائٹرز حاصل کرنے کی نیت پہلی بار 2024 کے اواخر میں سامنے آئی تھی، اور اب یہ معاہدہ تیزی سے آگے بڑھ رہا ہے۔

J-35A طیارہ چین کی جدید پانچویں نسل کی ٹیکنالوجی پر مبنی ہے، جس میں ریڈار سے بچنے کی صلاحیت، تیز رفتاری، اور جدید ہتھیاروں کی تنصیب کی سہولت موجود ہے۔ دفاعی ماہرین کے مطابق، یہ طیارے پاکستان کی فضائی طاقت کو بھارت کے رافیل اور دیگر جدید جیٹس کے مقابلے میں برتری فراہم کر سکتے ہیں۔ اگرچہ جون 2025 میں وزیر دفاع خواجہ آصف نے اس حوالے سے خبروں کی تردید کی تھی، لیکن حالیہ رپورٹس سے تصدیق ظاہر ہوتی ہے۔
پاکستانی پائلٹس کا ایک دستہ اس وقت بیجنگ میں پیپلز لبریشن آرمی ایئر فورس کے ہیڈکوارٹرز میں J-35A طیارے پر آپریشنل کنورژن ٹریننگ حاصل کر رہا ہے، جو عملی طور پر پاکستان کی پانچویں نسل کے لڑاکا طیاروں کے حصول کی جانب ایک اہم قدم ہے۔
اسلام آباد اور بیجنگ میں حالیہ اعلیٰ سطحی سکیورٹی ملاقاتوں کے دوران، خطے کی بدلتی ہوئی سلامتی کی صورتحال اور بھارت کی فضائی طاقت کی جدید کاری پر بھی بات ہوئی۔ دفاعی مبصرین کے مطابق، یہ اقدام چین-پاکستان دفاعی تعلقات میں اعتماد اور عملی تعاون کو مضبوط کرتا ہے۔

چین اور پاکستان کے درمیان ماضی میں بھی مشترکہ فوجی مشقیں اور ٹیکنالوجی کی منتقلی دیکھی جا چکی ہیں، جو دونوں ممالک کی فوجی ہم آہنگی کا ثبوت ہیں۔

J-35A فائٹر جیٹس کے معاہدے کے علاوہ، چین نے پاکستان کے سول اور عسکری انفراسٹرکچر میں 25 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کا بھی اعلان کیا ہے، جو چین-پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) فیز-2 کے تحت کی جا رہی ہے۔ اس سرمایہ کاری میں بزنس ٹو بزنس تعاون، صنعتی زونز اور گرین ڈیولپمنٹ پر توجہ دی جا رہی ہے۔
گوادر پورٹ CPEC کا مرکزی حصہ ہے اور تجارتی و اسٹریٹجک اہمیت رکھتا ہے، جس کی ترقی اور محفوظ آپریشنل رسائی دونوں ممالک کے مشترکہ مفادات میں شامل ہے۔


یہ پیشرفت چین اور پاکستان کے درمیان آہنی بھائی چارے کو مزید مضبوط کر رہی ہے، جبکہ جنوبی ایشیا میں سلامتی کے توازن کو بھی بدل سکتی ہے۔ دفاعی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ J-35A کی شمولیت سے پاکستان کی فضائی دفاع کی صلاحیت میں اضافہ ہوگا، جبکہ CPEC کی توسیع اقتصادی ترقی کو فروغ دے گی۔
تاہم، اس اقدام سے خطے میں ہتھیاروں کی دوڑ تیز ہو سکتی ہے، خاص طور پر بھارت کی جانب سے اپنی فضائی طاقت کو اپ گریڈ کرنے کی کوششوں کے پیش نظر۔ مجموعی طور پر، چین-پاکستان تعاون نہ صرف دفاعی بلکہ اقتصادی اور جیوپولیٹیکل سطح پر بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔