ڈھاکا(ویب ڈیسک)بنگلادیش میں فروری 2026 میں شیڈول عام انتخابات کے لیے سیاسی صف بندیاں تیز ہوگئی ہیں، جس کے تحت لبرل ڈیموکریٹک پارٹی (ایل ڈی پی) اور طلبا کی نمائندہ نیشنل سٹیزن پارٹی (این سی پی) نے بنگلادیش جماعتِ اسلامی کی قیادت میں قائم 8 جماعتی سیاسی اتحاد میں شمولیت کا باقاعدہ اعلان کر دیا ہے۔ بنگلادیشی میڈیا کے مطابق جماعت اسلامی کے امیر شفیق الرحمان نے ڈھاکا میں ایک پرہجوم پریس کانفرنس کے دوران اس اہم پیش رفت کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اتحاد نے ملک بھر کے تمام 300 انتخابی حلقوں کے لیے امیدواروں کی فہرستوں کو مشاورت کے ذریعے تقریباً حتمی شکل دے دی ہے، جبکہ بقیہ تکنیکی کام کاغذاتِ نامزدگی جمع کرانے کے عمل کے دوران مکمل کر لیا جائے گا۔ امیر جماعت اسلامی نے این سی پی کی قیادت کی پریس کانفرنس میں عدم موجودگی کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ وقت کی کمی کے باعث وہ شریک نہیں ہو سکے تاہم انہوں نے اتحاد کا حصہ بننے کے فیصلے سے باقاعدہ آگاہ کر دیا ہے۔
بنگلادیش میں 12 فروری 2026 کو ہونے والے ان انتخابات کو ملک کی سیاسی تاریخ میں انتہائی اہمیت کا حامل قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ سابق وزیر اعظم خالدہ ضیا کے بیٹے اور بنگلادیش نیشنلسٹ پارٹی (بی این پی) کے اہم رہنما طارق رحمان بھی 17 سالہ طویل جلاوطنی ختم کر کے وطن واپس پہنچ چکے ہیں۔ سیاسی تجزیہ کاروں کا ماننا ہے کہ طارق رحمان کی واپسی اور مختلف جماعتوں کے درمیان بننے والے نئے اتحاد انتخابی میدان کو مزید مسابقتی بنا دیں گے، جہاں طارق رحمان کو مستقبل کے وزیر اعظم کے لیے ایک مضبوط ترین امیدوار کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ ان نئی صف بندیوں اور انتخابی سرگرمیوں کے آغاز نے بنگلادیش کے سیاسی منظر نامے میں ایک نئی ہلچل پیدا کر دی ہے، جس سے آنے والے دنوں میں مزید اہم سیاسی تبدیلیوں کی توقع کی جا رہی ہے۔