ویب ڈیسک:سال 2025 کے دوران دنیا کے مختلف ممالک سے 24 ہزار 600 سے زائد بھارتی شہریوں کو ڈی پورٹ کر کے وطن واپس بھیج دیا گیا ہے، جس کی تفصیلات بھارتی وزارتِ خارجہ نے پارلیمنٹ کے ایوانِ بالا راجیہ سبھا میں پیش کر دی ہیں۔ خلیج ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق ڈی پورٹیشن کی سب سے زیادہ شرح سعودی عرب میں دیکھی گئی جہاں سے مجموعی طور پر 10 ہزار 884 بھارتی شہریوں کو نکالا گیا، جن میں ریاض سے 7 ہزار 19 اور جدہ سے 3 ہزار 865 افراد شامل تھے۔ اس فہرست میں امریکہ دوسرے نمبر پر رہا جہاں سے 3 ہزار 812 بھارتیوں کو ڈی پورٹ کیا گیا، جبکہ متحدہ عرب امارات نے 1 ہزار 469 شہریوں کو واپس بھیجا جو کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران یو اے ای سے ہونے والی سب سے بڑی بے دخلی ہے۔ اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ 2021 سے 2025 کے درمیان متحدہ عرب امارات سے مجموعی طور پر 3 ہزار 979 بھارتی شہریوں کو نکالا گیا، جس میں ہر گزرتے سال کے ساتھ اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔
رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ڈی پورٹیشن کی بنیادی وجوہات میں ویزا کی مدت ختم ہونے کے بعد غیر قانونی قیام، ورک پرمٹ کے بغیر ملازمت اور لیبر قوانین کی سنگین خلاف ورزیاں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بڑی تعداد میں بھارتی شہری جعلی جاب آفرز، فرضی بھرتیوں، آجر سے فرار ہونے اور مختلف سول یا فوجداری مقدمات میں ملوث ہونے کے باعث بھی بے دخل کیے گئے۔ متحدہ عرب امارات نے غیر قانونی طور پر مقیم افراد کو اپنی حیثیت درست کرنے یا جرمانے کے بغیر ملک چھوڑنے کے لیے ستمبر 2024 سے دسمبر 2024 تک ایمنسٹی اسکیم بھی فراہم کی تھی، تاہم اس کے باوجود بڑی تعداد میں بھارتی شہریوں کو واپس بھیجا گیا ہے۔
دیگر ممالک کے حوالے سے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق ملائیشیا سے 1 ہزار 485، بحرین سے 764، تھائی لینڈ سے 481 اور سری لنکا سے 372 بھارتی شہریوں کو ڈی پورٹ کیا گیا۔ اسی طرح برطانیہ سے 203، کینیڈا سے 188، جارجیا سے 133 اور آسٹریلیا سے 34 افراد کو واپس بھارت بھیجا گیا۔ بھارتی وزارتِ خارجہ کا کہنا ہے کہ بیشتر ممالک غیر قانونی قیام کی مکمل تفصیلات فراہم نہیں کرتے اور صرف سفری دستاویزات کی تیاری یا شہریت کی تصدیق کے لیے بھارتی مشنز سے رابطہ کیا جاتا ہے۔ وزارت نے شہریوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ بیرون ملک ملازمت کے لیے دھوکہ دہی کرنے والے جاب گینگز سے ہوشیار رہیں، اس سلسلے میں بھارتی مشنز کی جانب سے باقاعدہ ایڈوائزریز بھی جاری کی جاتی رہی ہیں۔