ڈیرہ غازی خان(ویب ڈیسک) پنجاب فوڈ اتھارٹی پر چھوٹے دکانداروں کو ہراساں کرنے اور بھاری جرمانے لگانے کے الزامات

تفصیلات کے ڈیرہ غازی خان شہر اور آس پاس کے علاقوں میں چھوٹے دکانداروں، چائے خانوں اور ڈھابہ مالکان میں پنجاب فوڈ اتھارٹی کی کارروائیوں کے خلاف شدید غم و غصہ پایا جاتا ہے۔ متاثرین کا الزام ہے کہ فوڈ اتھارٹی کی سیفٹی ٹیمیں، جن میں خاتون افسران بھی شامل ہوتی ہیں، چھوٹے کاروباریوں پر اچانک چھاپے مارتی ہیں اور بغیر کسی تفصیلی انسپکشن کے سیدھا بھاری جرمانہ عائد کر دیتی ہیں۔

متعدد دکانداروں نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ ٹیم کے ارکان براہ راست کہتے ہیں کہ "اوپر سے جرمانے لگانے کے ٹارگٹ ہیں”۔ انسپکشن کا کوئی باقاعدہ عمل نہیں ہوتا، نہ نمونے لیے جاتے ہیں اور نہ کوئی تکنیکی جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔ سیدھا 5 سے 10 ہزار روپے کا جرمانہ لگا کر سلپ تھما دی جاتی ہے اور اسی دن یا اگلے دن جمع کرانے کی ہدایت کی جاتی ہے۔

اگر کوئی دکاندار احتجاج یا بحث کرے تو جرمانے میں مزید 5 ہزار روپے کا اضافہ کر دیا جاتا ہے، جسے متاثرین "دباؤ کی حکمت عملی” قرار دیتے ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ جرمانے کی سلپ پر آخری تاریخ کئی دن بعد درج ہوتی ہے، مگر افسران فون کالز شروع کر دیتے ہیں اور دھمکی دیتے ہیں کہ "جلدی جمع نہیں کروایا تو نیا چالان کاٹ کر مزید جرمانہ لگا دیں گے”۔

چھوٹے کاروباریوں کا کہنا ہے کہ ان کی روزانہ کی کمائی اس قدر نہیں ہوتی کہ وہ اچانک اتنی بڑی رقم ادا کر سکیں۔ اکثر آدھی رقم ہی مشکل سے جمع کروا پاتے ہیں، جو ان کے کاروبار اور گھریلو اخراجات پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔

متاثرین کا ماننا ہے کہ یہ کارروائیاں فوڈ سیفٹی کے نام پر ریونیو اکٹھا کرنے کی مہم معلوم ہوتی ہیں، جبکہ پنجاب فوڈ اتھارٹی کا اصل مقصد خطرناک ملاوٹ، جعلی برانڈز، بڑے ملاوٹ مافیا اور غیر معیاری اشیاء کے خلاف سخت ایکشن ہونا چاہیے۔ چھوٹے غریب دکانداروں کو ہراساں کرنے اور ان پر بھاری جرمانے عائد کرنے کی بجائے ان کی رہنمائی کی جائے، اصلاح احوال پر توجہ دی جائے اور بڑے مجرموں کو نشانہ بنایا جائے۔

شہریوں نے حکومت پنجاب اور فوڈ اتھارٹی کے اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ ان شکایات کا نوٹس لیا جائے، شفاف انسپکشن پالیسی اپنائی جائے اور چھوٹے کاروباریوں کو تحفظ فراہم کیا جائے تاکہ وہ معاشی دباؤ کا شکار نہ ہوں۔

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔ ضروری خانوں کو * سے نشان زد کیا گیا ہے